اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت مخالف احتجاجی تحریک پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے گذشتہ روز ہونے والے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے ۔ نجی ٹی وی سے منسلک صحافی نعیم اشرف بٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اجلاس میں سابق صدرآصف علی زرداری نے کہا کہ ہمیں صورتحال دیکھنا ہو گی،استعفوں کے لیے موسم سرد ہے، لوگ خود نہیں نکل رہے،معاملہ بہتر موسم تک لے جائیں۔یہ نہ ہو کہ استعفوں پر حکومت الیکشن کروالے،جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اگر آپ بہترتياري سے استعفووں پر بات کرتے ہیں تو کوئی اعتراض نہيں۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے تحریک عدم اعتماد کی بات کی تو نواز شریف ناراض ہوئے اور کہا کہ تحریک عدم اعتماد پرہميں اسٹیبلشمنٹ کی مدد لینا پڑے گی، کیا آپ ایسا کہہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد لی جائے،جوڑ توڑ کے لیے پیسے لگیں گے اور یہ کام کبھی اسٹیبلشمنٹ کے بغیر نہیں ہوتا۔اختر مینگل نے بھی نواز شریف کی بات کی تائید کی۔۔ اجلاس میں نواز شریف نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں 12 سے 14 نشستیں آرام سے جیت سکتے ہیں۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے پر اصرار کیا جبکہ استعفوں کے حوالے سے سارا وزن پی ڈی ایم پر ڈال دیا۔دوران اجلاس آصف علی زرداری نے سینیٹ اور ضمنی انتخابات میں ہر صورت حصہ لینے کی تجویز پیش کی۔ سینیٹ الیکشن میں جاتے ہیں تو بھی ہمارا پلڑا بھاری ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مؤقف اپنایا کہ استعفوں کا آپشن تب استعمال ہو جب ماحول گرم اور عوام سڑکوں پر ہوں۔عوامی رائے ہموار کرنے کے لیے ریلیاں اور جلوس نکالے جائیں۔ استعفوں کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں لیکن حکمت عملی میڈیا پر ظاہر نہ کی جائے۔اجلاس میں پیپلز پارٹی نے تجویز کی کہ استعفے کب دینے ہیں یہ سرپرائز ہی رہنے دیں۔ جس پر نواز شریف نے مشورہ دیا کہ فیصلہ آپ قائدین نے خود کرنا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف کو ہمیشہ میٹھی باتوں میں پھنسایا جاتا ہے۔









