اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرصحافی طاہر ملک کا کہنا ہے کہ سیاست میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ یا تو آپ سیاست میں بہت اوپر جا رہے ہوں یا پھر بہت نیچے آ رہے ہیں۔اگر آپ ایک سال چپ رہی ہیں تو اس کی ویک وجہ تھی اور اگر آپ ایک سال اور چپ رہیں گے تو اس کی بھی وجہ ہو گی۔طاہر ملک نے مزید کہا کہ آج پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں یہ بات زیر بحث لائی جائے گی کہ خواجہ آصف کو تو گرفتار کر لیا گیا ہے کیا اگلی باری مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن کی ہے۔انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ہم نے جارحانہ انداز نہ اپنایا تو اگلی بار ہماری ہو سکتی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دفتر چلے جائیں یا پھر کوئی ریلی نکال لیں۔طاہر ملک نے مزید کہا کہ نواز شریف نے مریم نواز کو کہا ہے کہ پیپلز پارٹی جو بھی فیصلہ کرے گی ہم اس کے ساتھ چلیں گے۔نواز شریف نے مریم نواز کو اپنی طرف سے کوئی بھی بیان نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری سے پوچھے بغیر کوئی بیان نہیں دینا۔دوسری جانب سینیئر صحافی عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ مریم نواز کیخلاف نیب کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں لیکن انہیں جان بوجھ کر گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز جیل سے باہر رہ کر (ن) لیگ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے، اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ یہ مزید ایکسپوز ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو شوق تھا کہ مریم لیڈر بن جائے، یہ اب شوق پورا کروایا جارہا ہے، انہیں گرفتار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، ان کو جان بوجھ کر گرفتار نہیں کیا جارہا کہ یہ مزید ایکسپوز ہوں۔ نیب کے پاس جاتی عمرہ میں مریم نواز کی جانب سے جائیداد خریداری کی تمام تفصیلات موجود ہیں اور ناقابل تردید شواہد ہونے کے باوجود نیب مریم نواز کو گرفتار نہیں کررہی ہے۔عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے آئینی ماہرین کو کہا ہے کہ میری ای میل گم نہ کی جائے۔ یہ مریم نواز کو ایکسپوز کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا، خواجہ آصف کو گرفتار کرلیا، اور نیب پر پتھراؤ کے باوجود مریم نواز کو گرفتار نہیں کیا گیا، آخر کچھ تو وجہ ہے کہ نیب مریم نواز کو یہ چھوٹ دے رہی ہے۔









