اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ محمد علی درانی کی شہباز شریف سے ملاقات حکومت نے نہیں کروائی۔ فواد چودھری نے کہا کہ شبلی فراز نے بھی واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ حکومت کا اس ملاقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مریم نواز اس ملاقات کے حق میں نہیں تھیں، ملاقات میں شہباز شریف کی بھی اُتنی ہی خواہش شامل تھی جتنی ملنے والوں کی تھی۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ اگر وہ نہ ملنا چاہیں تو پھر بھی ملاقات ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہباز شریف بھی ملنا چاہ رہے تھے۔ وہ اس لیے بھی ملنا چاہ رہے تھے کیونکہ اُن کی سیاسی سوچ مریم نواز سے علیحدہ ہے ۔ مریم نواز نے اس ملاقات پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اُن پر دروازے کھول دئے جاتے ہیں
اور اُن سے مل لیا جاتا ہے ، اس کا مطلب یہی ہے کہ مریم نواز اس ملاقات سے نہ تو آگاہ تھیں اور نہ ہی اس کے حق میں تھیں۔جو ملنا چاہتے تھے انہوں نے مل لیا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کس نے کروائی یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں نے ملنا ہے اور ملنے میں فائدہ بھی ہو تو ملاقات تو ہو سکتی ہے۔وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ سیاسی اعتبار سے یہ بات صحیح ہے، اگر شہباز شریف کی گرفتاری کے معاملے پر میرا مشورہ ہوتا تو یہی ہوتا کہ شہباز شریف کی گرفتاری سے گریز کیا جانا چاہئیے تھا لیکن ایشو یہ ہے کہ حکومت کا نیب پر کوئی کنٹرول نہیں ہے، نیب ایسے فیصلے کرتی ہے جس کے سیاسی نتائج ہوتے ہیں۔نیب کے بہت سارے فیصلے حکومت سے پوچھ کر نہیں ہوتے،لیکن اس کے سیاسی نتائج ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک ایسا ہی فیصلہ تھا۔









