پی ڈی ایم کی حکومت کو مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن ،اسٹیبلشمنٹ کیا چاہتی ہے، خواہش سامنے آگئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئرصحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ چلے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 31 جنوری تک حکومت کو مستعفی ہونے کی ڈیڈلائن دے دی۔ایس حوالے سے اپنے پروگرام میں حالیہ صورتحال پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ماضی میں چند قوتیں پارلیمنٹ کو ختم کرنا چاہتی تھی مگر پہلی بار ایسا ہوا کہ اسٹیبشلمنٹ چاہتی ہے کہ یہ پارلیمنٹ چلے اور یہ سسٹم چلے۔تجزیہ کار نے کہا موجودہ پارلیمنٹ کا کوئی کردار نہیں۔حکومت کہتی ہے کہ اپوزیشن چلنے نہیں دیتی

جب کہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ قائد حزب اختلاف جیل میں ہیں اور انہیں حکومت کرنا نہیں آتی۔ڈاکٹر شاہد مسعود کا مزید کہنا تھا کہ یہ پارلیمنٹ غیر سنجیدہ ہو چکی ہے اور اس کا اب کوئی کردار نہیں۔سوائے اس کے کہ سینیٹ کے چند اراکین کا انتخاب کیا جائے۔قبل ازیں تجزیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اپنی پوری ٹیم کو بتادیا گیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی استعفیٰ نہیں دیں گے بلکہ اس کی بجائے اسمبلی تحلیل کردی جائیں گی کیوں کہ وزیر اعظم عمران خان کسی بھی ’ان ہاؤس‘ تبدیلی کے لیے بھی رضامند نہیں ہیں اس سلسلے میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر بھی وہ شخصیات جو کہ مائنس ون کے بعد آنے کا سوچ رہی تھیں ان سب کو وزیراعظم عمران خان نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر بتا دیا تھا کہ ان کی جگہ کسی کو نہیں لایاجا سکتا۔ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق پاکستان تحریک انصاف صرف عمران خان ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن کی پارٹی بھی اکیلے سابق وزیراعظم نواز شریف ہی ہیں لیکن وہاں فرق صرف یہ ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ان کی مضبوط ٹیم ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں