حکومت کا نئے سال کے آغاز میں عوام پر بجلی بم گرانے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بجلی کی پیداواری لاگت سے زیادہ قیمت کی وجہ سے 10 سابقہ واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین کے لیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حساب سے بجلی کے نرخ میں تقریبا 1.13 روپے اضافے کا امکان ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 30 دسمبر کے لیے مقرر کردہ عوامی سماعت میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اکتوبر اور نومبر میں استعمال ہونے والی بجلی کے ایندھن کی لاگت میں ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے سابق واپڈا ڈسکو کے صارفین کے نرخوں میں اضافے کے لیے دو الگ الگ درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ریگولیٹر کی منظوری پر بجلی کے اعلی نرخ آئندہ بلنگ مہینے (جنوری) میں صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔سابقہ واپڈا ڈسکوز کی جانب سے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)

ٹیرف میں اضافے کے لیے درخواست دائر کی تھی تاکہ ان کمپنیوں کے لیے تقریبا20 ارب روپے اضافی ریونیو وصول کیا جاسکے۔اپنی درخواست میں سی پی پی اے نے اکتوبر کے لیے 58 پیسے فی یونٹ اور نومبر کے لیے 96 پیسے فی یونٹ اضافی لاگت کا دعوٰی کیا ہے۔سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ اس نے صارفین سے اکتوبر میں 3.76 روپے ریفرنس فیول ٹیرف وصول کیے تھے تاہم فیول کی فی یونٹ قیمت 4.33 روپے پڑی لہذا اس پر اضافی لاگت 57 پیسے فی یونٹ وصول کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔یہ درخواست دراصل دسمبر میں عوامی سماعت کے لیے شیڈول تھی تاہم اسے موخر کردیا گیا تھا۔دریں اثنا سی پی پی اے نے نومبر کے مہینے میں فیول پرائز ایڈجسٹمنٹ کے لیے ایک اور درخواست دائر کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں