اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ثبوت ہیں کہ مولانا فضل الرحمان بیرونی قوتوں کا آلہ کار رہ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے اجیت دوول سے میٹنگ کی، ایم آئی سکس سے رابطے رہے، فرقہ واریت کی سازش ملوث رہے، کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں بنائیں، کرپشن کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے میرے چار سوالات ہیں، وہ انکار کریں گے تو میں ثبوت پیش کروں گا۔اجیت دوول کے ساتھ آپ کی
میٹنگ ہوئی بتائیں کیا بات چیت ہوئی؟ عمران خان نے جب کشمیر کا معاملہ اجاگر کیا تو مولانا آزادی مارچ کیوں کیا؟ آزادی مارچ سے پہلے اور بعد میں ان کے عالمی قوتوں سے رابطے تھے جواب دیں۔مولانا فضل الرحمان کے ایم آئی سکس کے ساتھ رابطے رہے، فرقہ واریت کی سازش میں بھی مولانا فضل الرحمان حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اقتدار میں آکر اربوں روپے کمائے۔مولانا فضل الرحمان نے کرپشن کے پیسے سے جائیدادیں بنائیں، مولانا فضل الرحمان کی مزید جائیدادیں بھی نکال رہا ہوں۔ مولانا فضل الرحمان بیرونی قوتوں کا آلہ کار رہ چکا ہے اس کے ثبوت موجود ہیں، فضل الرحمان نے فتویٰ دیا تھا کہ عورت کی حکمرانی حرام ہے پھر ڈیزل پرمٹ لے کر فتویٰ واپس لیا۔یہ بچ نہیں سکتے یہ سب لوگ بے نقاب ہوچکے ہیں۔ نوازشریف سزایافتہ ، اشتہاری اور مفرور ہیں۔نوازشریف کرپشن کے پیسے سے بنائی ہوئی جائیدادوں میں بیٹھ کر بیانات دے رہے ہیں۔مریم نواز والد کی کرپشن بچانے کیلئے عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ نوازشریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کرپشن کے سلطان ہیں۔ ان کو جو راستہ چاہیے ہم دے دیں گے ہم این آراو کی بات نہیں کررہے۔ عمران خان ان کو کسی صورت این آراو نہیں دیں گے۔ان کو پتا ہےکہ ان کی سیاست ہمیشہ کیلئے دفن ہونے والی ہے۔ یہ استعفوں کا ڈھونگ رچا کرخود کو بند گلی میں لے آئے ہیں۔ ان کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم ہےکہ جو اقدام آخر میں کرنا تھا انہوں نے پہلے کردیا۔ ان کے کچھ ایم پی
ایز اور ایم این ایز نے رابطہ کیا اور کہہ رہے ہیں کہ ہم کیوں استعفے دیں؟ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور آصف زرداری اورمولانا فضل الرحمان نے مختلف ادوارمیں قوم کا پیسا لوٹا۔ملک کی سیاست میں پیسا، جوڑتوڑ اور لوگوں کی خریدوفروخت یہ لے کرآئے۔ انہوں نے ملک میں ایسا ماحول بنایا کہ صرف پیسے والے ہی سیاست کرسکیں۔ انہوں نے اپنی اولادوں کو باہر بھیجا اورآج پاکستان کےعوام سے قربانی چاہتے ہیں۔ کرپشن کے مقدمات پر این آراو کیلئے دو سال تک مختلف طریقوں سےانہوں نے ہم پر دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ غیرذمہ دار سیاستدان اب لاہورمیں اپنا پروگرام کررہے ہیں۔ جبکہ جلسوں سے کورونا وباء کی دوسری لہرنے مختلف شہروں میں بھیانک صورتحال پیدا کی۔ جن جن شہروں میں جلسے ہوئے وہاں کورونا پھیلاؤ بہت بڑھ گیا ہے۔









