اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدرنے فُول پروف سکیورٹی کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق اس سلسلے میں کیپٹن ر صفدر کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے ، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ صوبہ خیبرپختون خوا ، پنجاب ، سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے آئی جیز کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے کیوں کہ لاہور میں اہلیہ مریم نواز کے ساتھ نیب آفس جاتے ہوئے ہم پر ایک بار حملہ ہو چکا ہے ، کراچی سے مجھے نامعلوم قوتوں نے گرفتار کیا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی
خلاف ورزی تھی اس کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ کی جانب سے بارہا یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم رہنماؤں کو خطرات ہیں اس لیے فُول پروف سکیورٹی فراہم کرنا وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سابق ایم این اور ملک کا شہری ہونے کی حیثیت سے سکیورٹی بنیادی حق ہے ، جب کہ ناموس رسالت ﷺ کے لئے بھی آواز اٹھاتا رہا ہوں اورسیاسی طور پر بھی متحرک ہوں جس کے لیے پورے ملک میں آنا جانا رہتا ہے اسی بناء پر سکیورٹی کے لئے اس سے پہلے پولیس کو درخواست دی جاچکی ہے تاہم اس پر کوئی بھی جواب نہیں ملا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری اور آئی جی سندھ واقعے کی انکوائری رپورٹ مرتب کرلی گئی مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے ہوٹل کمرے میں چھاپے اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کو قانون سے ماورا قرار دے دیا گیا ، رپورٹ کو منظرعام پر لانے یا نہ لانے کا حتمی فیصلہ سندھ کابینہ کے فورم پر کیا جائے گا، صوبہ سندھ کے 5 وزرا پر مشتمل کمیٹی نے اپنی رپورٹ فائنل کرلی اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس آج ہوگا جس میں ارکان رپورٹ پر دستخط کریں گے۔میڈیا ذرائع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ رپورٹ میں ہوٹل چھاپے اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی گرفتاری کو قانون سے ماورا قرار دیا گیا ہے ، وزراء پر مشتمل کمیٹی کی طرف سے کیپٹن ر صفدراعوان کے خلاف مقدمے کو اختیارات سے تجاوز قرار دیا گیا ، رپورٹ میں پس پردہ اسباب ، معاملات اور اہم کرداروں کا بھی ذکر گیا ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے ، اس سلسے میں دستاویزی اور تصویری شواہد کو بھی شامل کیا گیا۔









