اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیا گیا اور پنجاب حکومت نے تنظیم پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے، ہم پابندی سے متعلق سمری کابینہ کو بھیج رہے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جارہی ہے جب کہ میں نے کبھی بھی اس جماعت کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کبھی خادم حسین سےملا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہماری ان کو منانےکی کوششیں ناکام ہوئیں،
یہ فیض آباد آنا چاہتے تھے، ہم قرار داد اسمبلی میں اتفاق رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے، ہماری بڑی کوششیں تھیں لیکن وہ ہر صورت فیض آباد آنا چاہتے تھے، یہ ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ یورپ کے سارے لوگ ہی واپس چلے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نہیں انہوں نے حکمت عملی بنائی ہوئی تھی اور ہم نے جو معاہدہ کیا تھا اس پر قائم تھے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد میں پولیس سے رائفل چھین کر فائرنگ کی گئی، ان پر جو ایف آئی آرز ہوئی ہیں وہ قانون کے تحت ہوئیں۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں خود ختم نبوت کا مجاہد ہوں، (ن) لیگ نے ختم نبوت پرترمیم کی تو میں نے اسمبلی میں آواز اٹھائی، جس ملک میں وزیر داخلہ ختم نبوت کا مجاہد ہو اس ملک میں کوئی ختم نبوت کا مسئلہ نہیں، ہمارے دور میں ناموس رسالت کے خلاف کوئی کام نہیں ہو سکتا، آج بھی اس بات پر قائم ہیں اسمبلی میں ناموس رسالت کا بل پیش کریں گے، لیکن ہم ایسا مسودہ چاہتے ہیں جس سے نبی ﷺ کا علم بلند ہو، جو آپ چاہتے ہیں اس سے دنیا میں ہمارا انتہا پسندی کا امیج جائے گا۔اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیر صدارت امن وامان کی صورتحال پر اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، سیکرٹری داخلہ، آئی جی پنجاب انعام غنی، چیف کمشنرو آئی جی اسلام آباد، کمشنر راولپنڈی، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں تحریک لبیک کی جانب سے ہونے والے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کی
صورتحال کا جائزہ لیا گیا، پولیس، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کو علاقے کلیئر کرانے پر مبارکباد اور اس دوران شہید ہونے والے پولیس کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔اجلاس میں وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ موٹرویز، جی ٹی روڑ اور باقی بڑی سڑکیں ٹریفک کے لیے کلیئر ہیں، لیاقت باغ، ترنول، بارہ کہو، روات کے راستے بحال کردیئے، رینجرز اور پولیس نے انتظامیہ کے ساتھ ملکر اچھا کام کیا ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، ریاست کی رٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔









