بھارت سے کپاس اور چینی خریدنے کی تجویز، وزیراعظم عمران خان نے اپنا فیصلہ سنادیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی کابینہ نے بھارت سے چینی اور کپاس منگوانے کی ای سی سی کی تجویز مسترد کردی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بھارت سے کاٹن منگوانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وفاقی کابینہ نے بھارت سے چینی اور کاٹن منگوانے کی ای سی سی کی تجویز مسترد کردی۔وفاقی کابینہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 سے پہلے کی آئینی صورتحال بحال کرے، آرٹیکل 370 کی بحالی تک بھارت سے کسی قسم کی تجارت نہیں ہو سکتی۔ای سی سی نے گزشتہ روز بھارت میں قیمت کم ہونے پر کاٹن منگوانے کی تجویز منظور کی تھی۔

وزیر خزانہ حماد اظہر کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا تھا جس میں بھارت سے پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔کمیٹی نے بھارت سے کاٹن یارن کی درآمد کی بھی اجازت دی تھی جو کہ 30 جون 2021ء تک درآمد کی جا سکے گی۔گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھارت سے چینی، کپاس اور سوتی دھاگہ منگوانے کی اجازت دی تھی۔ اجلاس میں 30 جون 2021 تک بھارت سے درآمد کی منظوری دی گئی۔کمیٹی نے نجی شعبے کو بھارت سے چینی درآمد کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کمی پورا کرنےکے لیےکپاس درآمد کرنی پڑے گی۔ بھارت سے کپاس اور دھاگے کی درآمد سستی پڑے گی۔پاکستان میں کپاس کی سالانہ کھپت ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں ہیں۔ اس سال کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کا تخمینہ ہے۔ خیال رہےکہ پاکستان نے اگست 2019 میں بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کر دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں