اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے اور محدود پیمانے پر کاروبار جاری رکھیں گے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے کوویڈ 19 کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں موجودہ کورونا کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔وزیراعظم نے بنی گالہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور وزرائے اعلی سے آن لائن بات چیت کی۔ وزیراعظم نے ملک گیر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی اور ماسک کے استعمال کے لیے ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انتظامی مشینری ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے متحرک ہوجائے، کورونا وباء کی تیسری لہر خطرناک، بہت احتیاط کی ضرورت ہے، مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے، محدود پیمانے پر کاروبار جاری رکھیں گے، ہم نے بہتر حکمت عملی کے ساتھ پہلی لہر کا کامیابی سے مقابلہ کیا، وقت ایک بار پھر قوم سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔اجلاس کو ملک بھر میں جاری ویکسینیشن کے عمل اور خریداری پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ویکسینیشن کے عمل میں میرٹ اور شفافیت یقینی بنایا جائے۔اجلاس میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کم کرنے کے آپشن کا بھی جائزہ لیا گیا اور ملک بھر میں تمام ان ڈور آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی کے فیصلے کی توثیق کی گئی۔ پابندیوں کا اطلاق 8 فیصد سے زائد مثبت کیسز کے اضلاع اور شہروں میں ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے، وقت ایک بار پھر قوم سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہتر حکمت عملی سے پہلی لہر کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔اجلاس میں کورونا ویکسی نیشن کےعمل اور خریداری پر بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ انتظامی مشینری ایس اوپیز پر عملدرآمد کیلئے متحرک ہو جائے، ویکسی نیشن کےعمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔









