اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے، احتیاط نہ کی گئی تو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے گا، ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے کے قریب ہے، فیصلوں پرعملدرآمد نہیں ہو رہا، صورتحال بہتر نہ ہوئی تو سخت فیصلے کرنا پڑیں گے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا کو بریفنگ دیے ہوئے بتایا کہ کورونا وبا کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے، کورونا کی تیسری لہر خطرناک اور مہلک ہے، ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، برطانیہ سے آئی نئی کورونا کی قسم زیادہ خطرناک ہے، تیزی سے پھیلتی ہے،
لوگوں کو اندازہ نہیں کورونا کی تیسری لہر کتنی خطرناک ہے، وبا کا پھیلاؤ صرف پاکستان نہیں پورے خطے میں ہے، بھارت، بنگلادیش میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں کیسز میں اضافے کی وجہ سے برطانوی کورونا وائرس کی قسم ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے، کورونا سے بچاؤ کےلیےشہری ایس او پیز پر عمل یقینی بنائیں، احتیاط نہ کی گئی تو کورونا کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا، ہمارے اسپتالوں پر کورونا کے باعث دباوَ بڑھ گیا ہے، گزشتہ 5 روز میں کورونا تشویشناک مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہواہے۔سربراہ این سی او سی نے کہا کورونا کی پہلی لہر کی بلند ترین سطح میں تشویش ناک مریضوں کی تعداد 3300 اور دوسری لہر میں 2511 تھی جبکہ اس تیسری لہر میں ابھی سے تشویش ناک مریضوں کی تعداد 2842 ہوچکی ہے، سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ 12 دن میں تشویش ناک مریضوں کی تعداد میں ایک ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، اگر اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو پہلی لہر کی بلند ترین سطح سے آگے نکل جائیں گے، اس کے نتیجے میں ابھی سے اسپتالوں میں بستر نہ ملنے کی شکایات آنا شروع ہوگئی ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ ایک بار پھر اس وبا کا مل کر مقابلہ کرنا ہے اور اس وبا کو اس حد تک نہیں پھیلنے دینا کہ لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچانا پڑے، ہماری ہر ممکن کوشش تو یہی ہے لیکن اگر فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو ایسی صورتحال بھی ہوسکتی ہے کہ ہمیں اس سے زیادہ سخت پابندیاں لگانی پڑیں، مرکزی، صوبائی اور علاقائی سطح پر سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، اپوزیشن رہنماؤں سے درخواست ہے عوام کےدفاع میں کردار اداکریں۔









