اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ انتخابات میں عدم شفافیت کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا۔تفصیلات کے مطابق خط میں وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی درخواست کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ چاہتے ہیں آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات ہوجائیں۔شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر پیسہ چلا ۔میں نے ہر سطح پر شفاف انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات کی بات کی۔ سینیٹ انتخابات میں میری جماعت نے اوپن بیلٹنگ کا مطالبہ کی۔
انہوں نے لکھا کہ ہم قومی اسمبلی میں بل لائے اور سپریم کورٹ بھی گئے۔ سپریم کورٹ نے انتخابات کو شفاف بنانے کی ہدایت کی۔ بدقسمتی سے الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا۔واضح رہے کہ اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کی ناکامی کے بعد وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی تھی جس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس کے علاوہ دور روز قبل حکومت نے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپٹ طریقہ کار پارلیمانی جمہوریت کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے، میں اور میری جماعت نے شفاف سینیٹ الیکشن کے لیے اوپن بیلٹ کی بات کی، اوپن بیلٹ کی بات اس لیے کی کیونکہ ماضی میں ووٹوں کی خریدو فروخت کی مارکیٹ لگتی تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ اوپن بیلٹ پر الیکشن کے لیے اسمبلی میں بل پیش کیا اور سپریم کورٹ بھی گئے، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو شفاف، آزادانہ الیکشن کرانے کے لیے کہا، بدقسمتی سے الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے مشاہدے پر کان نہیں دھرے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے انتخابی اصلاحات کے لیے میٹنگز ہوئی تھیں، اصلاحات کی بات بہت مثبت ہے، الیکشنز سے متعلق شکایات کا ازالہ ہوسکے گا، تمام جماعتوں کو وزیراعظم کی بات کو مثبت طریقے سے دیکھنا چاہیے۔فیصل سبزواری نے کہا کہ وزیراعظم کو پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سے بات کرنی چاہیے، اسپیکر کو خط لکھنے سے آگے بڑھ کر وزیراعظم کو کام کرنا ہوگا، وزیراعظم نے خط لکھ کر اچھا قدم اٹھایا ہے۔









