اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ مجھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں ہے، اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا ہے۔ اپنی زندگی کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں۔ میاں صاحب،آپ کیسےعوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنےدور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔
میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف اگر جنگ کیلئے تیار ہیں تو انہیں وطن واپس آنا ہوگا۔ میں جنگ کیلئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے۔ میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے سینیٹ انتخابات لڑے لیکن سینیٹراسحاق ڈار ووٹ ڈالنے نہیں آئے، اگر لڑنا ہے تو ہم سب کوجیل جانا پڑے گا۔ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ جب 1986 اور 2007 میں بینظیر بھٹو وطن آئیں تو ہم نے پورے ملک کو موبلائز کیا تھا۔ ہمیں لانگ مارچ کی ایسی ہی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ اسٹبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد ذاتی عناد کے بجائے جمہوری اداروں کے استحکام کی جدوجہد کیلئے ہونا چاہیے۔آصف زرداری نے کہا کہ میاں صاحب، آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے، آپ نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جب کہ میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا، نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ انہیں وطن واپس آنا ہوگا، میں جنگ کے لئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے لیکن میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔شریک چیئرمین پی پی نے کہا کہ میں نے پارلیمان کو اختیارات دیے، میں نے 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی منظور کیا جس کی مجھے اور میری پارٹی کو سزا دی گئی، ہم اپنی آخری سانس تک جدوجہد کے لئے تیار ہیں لیکن اسمبلیوں کو چھوڑنا اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے، ایسے فیصلے نہ کیے جائیں کہ جس سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں، ہمارے انتشار کا فائدہ جمہوریت کے دشمنوں کو فائدہ دے گا۔









