وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس،حکومت کا چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔وفاقی وزراء شبلی فراز اور فواد چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ الیکشن کمیشن ناکام ہو چکا ہے اور نیوٹرل ایمپائر کا کردار ادا نہیں کررہا اس لیے اسے بحیثیت مجموعی استعفیٰ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد الیکشن کمیشن سے اٹھ چکا ہے، نیا الیکشن کمیشن بنے جس پر سب کا اعتماد ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین فوری استعفیٰ دیں اور پارلیمان کو موقع دیا جائے کہ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے،

جس پر سب کا اعتماد ہو۔شفقت محمود نے کہا کہ تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت ہے اسے الیکشن کمیشن پر کوئی اعتماد نہیں، دیگر جماعتوں سے بھی پوچھا جائے تو انہیں اس پر اعتماد نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا الیکشن کمیشن کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کریں گے۔شفقت محمود نے کہا کہ وزیراعظم کا بہت دیر سے مطالبہ تھا الیکشن میں پیسے کی طاقت ختم ہو، وزیراعظم سینیٹ الیکشن کی شفافیت کے لیے چاہتے تھے کہ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو۔وزیرتعلیم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ کہا ووٹ کی خرید وفروخت سے سینیٹ الیکشن کو پاک کرنا ہے، 2018 میں سینیٹ انتخابات میں پھر منڈیاں لگیں، سپریم کورٹ نے کہا ووٹنگ کا طریقہ بدلنے کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ہم پارلیمنٹ میں بل اور آئینی ترمیم لائے، سپریم کورٹ تک گئے، سپریم کورٹ نے کہا آئینی ترمیم ضروری لیکن الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے، ہمارا ایک وفد سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن گیا، ہم نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی کہ بیلٹ پیپر ایسا بنائیں جو ضرورت پڑنے پر چیلنج کیا جاسکے، ویڈیو میں سب نے دیکھا کہ کیسے ووٹ خریدنے کی کوشش کی گئی۔شفقت محمود نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے ہر سیاسی جماعت سینیٹ الیکشن سے مطمئن نہیں، یہ ساری چیزیں عمران خان کے اس موقف کی تائید کرتی ہیں، یہ ناکامی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہے، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں

مکمل ناکام ہو چکا ہے، اس پر کسی کو اعتماد نہیں رہا، ہمیں بطور حکمران جماعت الیکشن کمیشن پر کوئی اعتماد نہیں، الیکشن کمیشن کو بحیثیت مجموعی اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار اور مستعفی ہوجانا چاہیے، نیا الیکشن کمیشن بنایا جائے جس پر سب کو اعتماد ہو، ہم سب مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ الیکشن شفاف ہو جس پر کوئی آواز نہ اٹھے۔شفقت محمود نے مزید کہا کہ عمران خان کرکٹ میں بھی نیوٹرل امپائر لے کر آئے، الیکشن کمیشن کو نیوٹرل ہونا چاہیئے، لیکن موجودہ الیکشن کمیشن نیوٹرل نہیں، فی الحال الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا ارادہ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں