مرکزی تنظیم تاجران نے حکومت کی جانب سے لاک ڈاون کافیصلہ مسترد کر دیا

ملتان (نیوزڈیسک)تاجروں نے پنجاب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن سے متعلق تمام فیصلوں کو مسترد کر دیا۔ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر رہنما نے کہا کہ تاجروں پر اچانک لاک ڈاؤن کا بم گرا ہے، ہم حکومت کے لاک ڈاؤن کے تمام فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 5 سے 7 شہر بند ہیں باقی پورا پاکستان کھلا ہے، گزشتہ لاک ڈاؤن کے نقصان کے اثرات تاجروں پر آج بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کپڑے کے ریٹ 3 ماہ میں 30 سے 40 فیصد بڑھ گئے ہیں، اس ملک میں کپاس کی کمی کی وجہ سے بحران پیدا ہو رہا ہے۔تاجر رہنما نے مطالبہ کیا کہ اگر لاک

ڈاؤن کرنا ہے تو پورے پنجاب میں کریں، اور لاک ڈاؤن میں 6 بجے کی جگہ کم سے کم 8 بجے کا ٹائم رکھیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ہفتہ اتوار مارکیٹ کسی صورت بند نہیں کریں گے، اگر آپ نے تاجروں سے لڑائی لڑنی ہے تو ہم تیار ہیں۔ ہم انہیں مارکیٹوں میں گھسنے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے تاجر متاثر ہوتے ہیں، یہ فیصلہ مسلط کرنے سے پہلے تاجروں سے مشاورت کیوں نہیں کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ میرج ہال بند کرنے سے لوگوں میں افراتفری ہے، جن کی شادیاں فکس ہیں انکو نقصان ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ کورونا کی تیسری لہر سے نمٹنے کیلئے اقدامات، لاہور سمیت پنجاب کے سات شہروں میں 29 مارچ تک سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا، کاروباری مراکز شام 6 بجے بند، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی، شادی ہالز، مارکیز اور کمیونٹی سینٹرز بھی کل سے بند، صرف کھلے مقامات پر تقریبات کی اجازت، تین سو سے زائد افراد شرکت نہیں کرسکیں گے۔ کورونا وائرس کا مسلسل بڑھتا خطرہ، پنجاب حکومت نےعوام کے تحفظ کے لیے بڑے فیصلے کر لئے۔ لاہور، راولپنڈی سمیت سات شہروں میں کاروباری مراکز شام 6 بجے بند ہونگے، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ہوگی۔ ان ڈور، آؤٹ ڈور شادی ہالز، کمیونٹی سنٹرز اور مارکیز 15مارچ سے مکمل بند، میڈیکل سروسز، پٹرول پمپس، اشیاء ضروریہ کی دکانیں چوبیس گھنٹے کھلی رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں