لاہور(نیوز دیسک)سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نے صوبے میں نئی پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے مسلسل بڑھتے خطرے کے پیش نظر حکومت پنجاب کی جانب سے عوام کے تحفظ کے لیے بڑے فیصلے کئے گئے ہیں، اور صوبائی سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کاروباری مراکز شام 6 بجے بند جب کہ ہفتہ اور اتوار کام کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، جب کہ نوٹی فکیشن کا اطلاق فی الفور ہوگا
اور 29 مارچ تک نافذ العمل رہے گا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری و نجی دفاتر 50 فیصد اسٹاف کے ہمراہ کام کرنے کی پالیسی پر کاربند ہوں گے۔ لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات میں تمام انڈور اور آؤٹ ڈور میرج ہالز، کمیونٹی سینٹرز اور مرکیز 15 مارچ سے مکمل طور پر بند ہوں گے۔لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور گجرات میں ریستوران اور کیفیز میں انڈور ڈائننگ سختی سے منع کردی گئی ہے صرف ٹیک اویز کی اجازت ہوگی۔مذکورہ شہروں میں کسی بھی سماجی و مذہبی تقریبات میں صرف 50 افراد کو شامل ہونے کی اجازت ہوگی، زیادہ آبادی والے بڑے 7 شہروں کے علاوہ باقی اضلاع میں 300 سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہوگی۔نوٹیفیکشن کے اطلاق کے بعد تمام مزارت، درگاہیں اور سنیما ہالز بھی مکمل طور پر بند ہوں گے، تمام تفریحی مقامات اور پارکس شام 6 بجے بند کر دیے جائیں گے۔محکمے کے مطابق ضلعی انتظامیہ پابندیوں کو صوبہ بھر میں نافذ کروانے کے لیے پولیس کے ساتھ رابطے میں رہے گی، عوام کو زندگی معمول پر لانے کے لیے حکومت پنجاب کا ساتھ دیتے ہوئے ایس او پیز کو زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔سیکریٹری کا مزید کہنا ہے کہ فوری طور پر یہ پابندیاں لگانے سے کرونا وائرس کی متوقع تیسری لہر پر بر وقت قابو پالیں گے۔









