عمران خان کے اکاؤنٹس میں اسرائیل اور بھارتی جنتا پارٹی نے ہنڈی کے ذریعے پیسا بھیجا،تہلکہ خیز خبر سامنے آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ تحریک انصاف کو اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ ہوئی۔ وہ پیسہ ہنڈٰی کے ذریعے پاکستان آیا اور حکومت مخالف سازشوں پر خرچ ہوا۔اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے تحریک انصاف کے 23 خفیہ اکاؤنٹس ہیں جو الیکشن کمیشن آف پاکستان سے چھپائے گئے ہیں۔مریم نواز نے تحریک انصاف کی جانب سے 6 سال تک فارن فنڈںگ کیس میں تاخیری حربوں اور تحقیقات روکنے کیلئے دائر

درخواستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف 60 دن میں رپورٹ آجاتی ہے اور 6 ماہ کیس کا فیصلہ ہوجاتا ہے جبکہ یہاں عمران خان سانپ بن کر بیٹھا ہے۔مریم نواز نے احتجاج میں شریک کارکنان سے پوچھا کہ جانتے ہو یہ پیسہ پاکستان کیسے آیا۔ پھر انہوں نے خود ہی جواب دیا کہ ہنڈی کے ذریعے آیا۔ پھر پوچھا کہ جانتے ہو ناں ہنڈی کے ذریعے کون سا پیسہ آتا ہے۔ اس لیے یہ کنٹینر پر چڑھ کر کہتا تھا ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجو اور وہ پیسہ منتخب حکومت کے خلاف سازشوں میں پانی کی طرح بہایا۔انہوں نے کہا کہ دو ملکوں سے بڑی فنڈنگ آئی جن میں ایک بھارت اور دوسرا اسرائیل ہے۔ وہ بھارت جو کشمیر میں ظلم ڈھا رہا ہے اور وہ اسرائیل جو فلسطین پر قابض ہے۔ بھارت سے جس شخص نے فنڈ دیا وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ممبر ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا کیس دنوں میں چلتا ہے اور دنوں میں ختم ہوتا ہے اور دن میں دو دو سماعتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اس ادارے نے 7 برسوں میں 70 سماعتیں کی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر مسلط عمران خان نے مقدمے کو ملتوی کرانے کی 30 بار کوشش کی، کون کہتا تھا کہ اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دے دو، آج پی ڈی ایم اور عوام پوچھتے ہیں کہ اگر چوری نہیں کی تو 30 بار مقدمے کو رکوانے کی کوشش کیوں کی۔نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس تابعداد خان نے ہائی کورٹ میں 6 مرتبہ درخواستیں کیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتا اور ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی بنائی، جس کا کام

تحقیقات کرکے تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا تھا، جب تحقیقات ہوئی تو جرائم کی لمبی داستان سامنے آئی کیونکہ اوپر سے حکم تھا اور اسکروٹنی کمیٹی کو کہا گیا کہ ان پر ہاتھ ہولا رکھو پھر اسکروٹنی کمیٹی عمران خان اور الیکشن کمیشن کی تابعدار بن گئی۔انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی 3 سال سے تحقیقات کر رہی ہے حالانکہ اتنے واضح اور ہوش اڑا دینے والے حقائق ہیں، جن کا فیصلہ تین سال تو کیا تین دن میں ہوسکتا ہے لیکن تین سال سے یہ سانپ بن کر اس کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 80 سماعتوں کے دوران عمران خان نے کم از کم 24 مرتبہ کارروائی رکوانے کی کوشش

کی اور 4 مرتبہ درخواستیں دی کہ کارروائی کو خفیہ رکھا جائے، اگر اتنا دامن صاف تھا تو کارروائی کو خفیہ رکھنے کے لیے درخواستیں کیوں دیں، اس کا مطلب ہے کہ چوری تو ہوئی ہے اور چوری بھی بہت بڑی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ 2014 میں تحریک انصاف ہی کے منحرف رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں پارٹی فنڈز میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی۔ ان کا موقف ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ غیر ملکیوں سے بھی فنڈز حاصل کیے، جس کی پاکستانی قانون اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار

کیا ہے کہ امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں جماعت کے لیے وہاں پر رہنے والے پاکستانیوں سے چندہ اکھٹے کرنے کی غرض سے لمیٹڈ لائبیلیٹیز کمپنیاں بنائی گئی تھیں جن میں آنے والا فنڈ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ پارٹی نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل نہیں کیے، بیرون ملک سے تمام حاصل ہونے والے فنڈز کے دستاویزات موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن میں درخواست کی سماعت رکوانے کے لیے تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے 6 مرتبہ رجوع کیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس کسی جماعت کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا اختیار نہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھی اسی نوعیت کی درخواستیں الیکشن کمیشن میں دائر کیں، اس معاملے کی تحقیقات کے لئے خصوصی اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں