سالانہ کتنے ارب ڈالر کالا دھن دبئی اور سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں بھیجا جاتا ہے، شبرزیدی کے سنسنی خیز انکشافات

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل کہا تھا کہ باہر ممالک میں پڑا پاکستانیوں کا کالے دھن کا پیسا وہ وطن واپس لائیں گے مگر آج تک یہ وعدہ وفا نہیں ہوسکا۔اس پیسے سے متعلق بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسا واپس لانا بہت مشکل ہے اور یہ پیسا کبھی بھی پاکستان واپس نہیں آئے گا بلکہ وہیں پڑا رہ جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اشرافیہ کا بلین ڈالر سرمایہ دبئی اور سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑا ہے جو وہیں رہ جائے گا اور کبھی ملک واپس نہیں آ سکے گا۔

شبر زیدی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی تجارت اور ٹیکس چوری کرکے کمایا گیا 150 ارب ڈالر کا خطیر سرمایہ بیرون ملک اثاثوں کی شکل میں موجود ہے، اس میں ملوث اشرافیہ تجارتی انجمنوں اور چیمبر آف کامرس میں سرکردہ پوزیشن پر موجود ہے۔سابق چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ضیاءالحق کے دور کے بعد ملک میں ٹیکس چور اور غیرقانونی تجارت کے ذریعے سرمایہ بنانے والے مافیا نے جنم لیا، پاکستان میں دستاویزی کاروبار کرنا مشکل بنادیا گیا اور ایسے قوانین اور پالیسیاں تشکیل دی گئیں جس سے غیرمنظم کاروبار کو فروغ ملا جب کہ منظم اور قانونی کاروبار مشکل تر ہوتا گیا۔شبرزیدی نے کہا کہ پاکستانی کاروباری طبقہ جو غیرقانونی تجارت اور ٹیکس چوری کو کاروبار سمجھتا ہے وہ علاقائی تجارت کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے کیونکہ اس میں مسابقت کی صلاحیت نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے سرمایہ باہر چھپانے والے افراد چیمبروں اور سمینارز میں پاکستان سے محبت، یک جہتی اور پاکستان کی بھلائی کی تقریریں کرتے ہیں جن کی شکلیں دیکھ کر مجھے غصہ آتا ہے کیونکہ میں انہیں جانتا ہوں اور ایسے تمام افراد کے نام اور ثبوت بھی مہیا کرسکتا ہوں۔شبر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس چوری اور غیر دستاویزی معیشت کا پیسہ سیاسی جماعتوں کی الیکشن مہم میں انویسٹ کیا جاتا ہے، ایک ایم این اے کی سیٹ پر 20 کروڑ روپے کا خرچہ آتا ہے جو جلسے جلوسوں پر خرچ ہوتا ہے، اس لحاظ سے 360 سیٹوں کا خرچہ کہاں سے آتا ہے؟ یہ تمام خرچ غیر دستاویزی معیشت سے پیسہ کمانے والے

فنانسر الیکشن میں لگاتے ہیں اور بعد میں ریکوری کرتے ہیں۔شبر زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان سے سرمایہ باہر چھپانے والے جلد مشکلات کا شکار ہوں گے، اکثر کاروباری شخصیات نے مالٹا کی قومیت لی ہے اور سوئس بینکوں میں ان کے اثاثے موجود ہیں، بیرون ملک اثاثوں پر ایک فیصد منافع بھی نہیں مل رہا جبکہ پاکستان میں اس سرمائے کو ڈکلیئر اور منتقل کرکے بہتر منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔شبرزیدی نے پاکستان میں ٹیکسوں کی بلند شرح کو بھی ٹیکس چوری غیر دستاویزی کاروبار کی ایک وجہ قرار دیا انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سگریٹ پر 74 فیصد ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ

سے سگریٹ کی غیر قانونی تجارت بڑھ رہی ہے اور 30 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سگریٹ کی غیرقانونی فروخت قومی خزانے کو ٹیکس چوری سے پہنچنے والے سب سے زیادہ نقصان کا سبب ہے، اس کے علاوہ چینی، بیٹری، الیکٹرانک مصنوعات، موٹر سائیکلیں، سائیکلیں، سیمنٹ، کنزیومر مصنوعات، پیک مسالہ جات وہ اشیاءہیں جن کا غیر قانونی تجارت میں حصہ سب سے زیادہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں