ایران اسرائیل جنگ اور پٹرو ڈالر نظام کو لاحق خطرات

تحریر انجنیر فیصل حیات

مارچ 2026 میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، تو ابتدائی طور پر یہ سوچا جا رہا تھا کہ دونوں طاقتیں ایران کو جلدی شکست دے دیں گی، مگر ایسا نہ ہو سکا اور ایران نے نہ صرف اسرائیل پر جوابی حملے کیے بلکہ خلیج کے ممالک میں امریکہ کے ہوائی بیسز پر تابڑ توڑ حملے کر کے امریکہ کو خاصہ نقصان پہنچایا اور دنیا کو حیران کن طور پر ششدر کر دیا۔ ایران نے اپنے دفاعی اقدامات کو مستحکم کیا اور چین، روس سمیت دیگر اتحادیوں سے فوجی، اقتصادی اور سیاسی حمایت حاصل کی، جس کے نتیجے میں ایران نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی، اور امریکہ و اسرائیل کے لیے ایران کو شکست دینا مشکل بنا دیا۔ اس دوران ایران نے Strait of Hormuz کو بند کر دیا، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔

ایران نے حالیہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ Strait of Hormuz کے ذریعے تیل کی تجارت کو مشروط طور پر دوبارہ کھول سکتا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ لین دین چینی کرنسی یوآن میں کیا جائے۔ اگر یہ پالیسی حقیقت بن جاتی ہے تو یہ امریکی پیٹرو ڈالر نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، جو گزشتہ 52 سال سے عالمی تیل کی تجارت کا اہم حصہ رہا ہے۔ اصل سوال صرف تیل کی تجارت کا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایران ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اور امریکہ اس پر کیا ردعمل دے گا؟ اگر عالمی تیل کا نظام دو مختلف کرنسیوں میں تقسیم ہو جائے تو دنیا کا ردعمل کیا ہوگا؟

اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں تقریباً 52 سال پیچھے جانا ہوگا۔ سنہ 1974 میں امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا، جس کے مطابق سعودی عرب اور بعد میں OPEC کے زیادہ تر ممالک تیل صرف امریکی ڈالر میں فروخت کریں گے۔ اس معاہدے کے بدلے میں امریکہ نے سعودی عرب کو سیکیورٹی اور دفاعی تحفظ فراہم کیا تھا۔ اس معاہدے نے پیٹرو ڈالر نظام کی بنیاد رکھی اور عالمی معیشت کو تبدیل کر دیا۔
اس کے بعد دنیا کے ہر ملک کو جو تیل خریدنا چاہتا تھا، امریکی ڈالر رکھنا ضروری ہو گیا۔ مثال کے طور پر جرمنی، بھارت، اور چین جیسے بڑے ممالک کو توانائی خریدنے کے لیے ڈالر کی ضرورت پڑتی تھی۔ حتیٰ کہ وہ ممالک بھی جو امریکہ کے ساتھ سیاسی اختلافات رکھتے تھے، انہیں بھی تیل خریدنے کے لیے ڈالر کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس نظام نے امریکی کرنسی کی عالمی طلب میں بے پناہ اضافہ کیا، جس سے امریکہ کو عالمی معاشی طاقت حاصل ہوئی۔ اس طاقت کی بدولت امریکہ اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتا تھا، بینک اکاؤنٹس منجمد کر سکتا تھا اور ممالک کو عالمی مالیاتی نظام سے خارج کر سکتا تھا۔
کئی دہائیوں تک پیٹرو ڈالر نظام امریکہ کی عالمی معاشی طاقت کا ستون رہا۔ تاہم وقت کے ساتھ کچھ ممالک نے اس نظام سے نکلنے کے راستے تلاش کرنا شروع کیے، جن میں ایک اہم ملک ایران تھا۔ ایران کی امریکہ سے کشیدگی آج کی نہیں بلکہ چالیس سال سے زیادہ پرانی ہے۔ 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد واشنگٹن اور تہران کے تعلقات شدید خراب ہو گئے تھے، جس کے بعد امریکہ نے ایران پر کئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔

ایران نے ان پابندیوں کے باوجود اپنے تیل کی تجارت کے لیے متبادل راستے تلاش کیے۔ ایران اپنے تیل کی تجارت کو یوآن میں کرنے کی پالیسی نافذ کرنا چاہتا ہے تاکہ امریکہ کی اجارہ داری کو ختم کیا جا سکے، اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل طاقت کے ذریعے ایران کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ چند دنوں کی جنگ اور فضائی گولہ باری کے باوجود، کسی فریق کو واضح کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بے تحاشا بڑھا دیا۔ دنیا کا سپر پاور ہونے کے باوجود امریکہ Strait of Hormuz کو دوبارہ نہیں کھلوا سکا۔ دوسری طرف، امریکہ اور اسرائیل کی شدید بمباری کے باوجود ایران نے ہار نہیں مانی اور تیل کو منڈی تک لے جانے کے لیے چینی کرنسی میں تجارت کرنے کی شرط رکھی، جس کے نتیجے میں برسوں سے راہج پیٹرو ڈالر نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ جیت کس کی ہوتی ہے، لیکن یہ سلسلہ اگر زیادہ دیر تک چلتا رہا تو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے دنیا کی اہم معیشتوں کو شدید نقصان پہنچے کا خطرہ ہے اور دوسری طرف چاہینہ کی کرنسی میں تیل کی تجارت شروع ہوبے سے دنیا میں طاقت کا توازن بھی بدل سکتا ہے۔آنے والے کالم میں، میں اسٹیٹ آف ہارمونز کی اہمیت، خلیجی ممالک کا آہندہ کا لاہحہ عمل ، اور پاکستان کے کردار پر تفصیل سے تبصرہ کریں گے۔ اپنی رائے کے لیے رابطہ کریں: واٹس ایپ 03213889977 .

اپنا تبصرہ بھیجیں