تحریر: انجینئر فیصل حیات خان

جنگیں ہمیشہ توپ و تفنگ اور عسکری حکمتِ عملی سے ہی نہیں جیتی جاتیں۔ آج کے دور میں میڈیا وار فیئر بھی اُتنا ہی اہم ہے۔ دشمن کو صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کے محاذ پر بھی شکست دینا ضروری ہوتا ہے۔
بھارت جنگ سے قبل جھوٹے بیانیے تراش رہا تھا، لیکن پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے اس چیلنج کو بروقت پہچان لیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، سیکریٹری اطلاعات عمرین جان اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن نے ایک مربوط میڈیا حکمتِ عملی تیار کی۔ پاک-چائنا سینٹر میں میڈیا ایمرجنسی سیل قائم کیا گیا، پی ٹی وی اور وزارتِ اطلاعات کے افسران 24 گھنٹے متحرک رہے اور سرکاری میڈیا کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔
جنگ شروع ہوتے ہی عطا اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر وفاقی وزرا نے عالمی میڈیا پر بھرپور انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ CNN، BBC اور دیگر بڑے چینلز پر بھارتی جارحیت کو بے نقاب کیا گیا۔ غیر ملکی مبصرین کو متاثرہ مقامات کا دورہ کرایا گیا، جہاں بھارت نے دہشت گردی کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا۔ حقائق دیکھنے کے بعد عالمی رائے عامہ پاکستان کے مؤقف کے حق میں ہوگئی اور بھارت پر تنقید بڑھ گئی۔
بھارت کے “نو دہشت گرد ٹھکانوں کی تباہی” کے جھوٹے دعوے کو پاکستان نے دلائل اور ثبوتوں سے دفن کر دیا۔ رافیل طیاروں کی تباہی کے حوالے سے پاکستانی بیانیہ عالمی میڈیا پر اتنے مؤثر انداز میں پیش کیا گیا کہ اس کے تجارتی اثرات بھی ظاہر ہوئے اور بھارت کے اندر اپنی فوج پر سخت تنقید شروع ہوگئی .عطا اللہ تارڈ کی قیادت میں پاکستانی میڈیا نے بھرپور کردار ادا کیا۔چاہے سرکاری، نجی اور پرنٹ میڈیا سب نے یک آواز ہو کر بھارتی پراپیگنڈے کا مقابلہ کیا اور عالمی سطح پر سچ کو اجاگر کیا۔
نتیجتاً پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم ہوا اور بھارت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی کارکردگی پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، سیکریٹری اطلاعات عمرین جان اور پی آئی او مبشر حسن کو “ستارہ امتیاز” سے نوازا گیا۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جدید جنگوں میں میڈیا کی حکمتِ عملی عسکری حکمتِ عملی جتنی ہی اہم ہے۔
بہترین عسکری حکمتِ عملی کے ساتھ عطا اللہ تارڑ کی قیادت میں میڈیا وار فیئر نے آپریشن بنیان المرصوص کو “معرکۂ حق” کی شکل میں پاکستان کے لیے ایک تاریخی کامیابی بدل دیا۔ یہ کامیابی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ کس طرح پاکستان نے عسکری میدان کے ساتھ ساتھ بیانیے کی جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔









