لاہور (نیوز ڈیسک) ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ سینیٹ میں نیب کیخلاف تحقیقات میڈیا کے سامنے پورا پاکستان دیکھے گا، سینیٹ ہر ادارے کی تحقیقات کرسکتا ہے،سینیٹ کمیٹی کی رپورٹ پر حکومت عمل کرتی ہے، اگر چیئرمین نیب نہیں آتے تو قواعدوضوابط کے مطابق کاروائی ہوگی،میرا مطالبہ ہے کہ نیب میرے خلاف انکوائری کا ریکارڈ میڈیا کو جاری کردے۔انہوں نے سینئر تجزیہ کار مبشرلقمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے نجی پلاٹوں کے معاملے پر میرے اعجاز ہارون اور مجھے نوٹس کیا، نیب کا یہ مینڈیٹ نہیں کہ لوگوں کے ذاتی کاروبار میں جائے اور دیکھے کہ
کون کتنا ٹیکس دے رہا ہے؟میں یہ کافی لوگوں سے سن چکا تھا کہ ان سے زیادتی ہورہی ہے۔اس سے پہلے رضاکارانہ رقم واپسی کی اسکیم ہوتی تھی جس کے تحت نیب کیس بنا کر پیسے ریکور کرتی اور اس میں 20فیصد نیب کے اکاؤنٹ میں جمع ہوجاتے تھے، سپریم کورٹ نے اس اسکیم سے نیب کو روکا، اس کے بعد نیب نے پلی بارگین شروع کردی، پلی بار گین بھی اسی طرح کی جاتی رضاکارانہ اسکیم چلاتے تھے، اب اربوں روپے جمع کرتے ہیں، لیکن ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ کیسے جمع کیے؟حکومت کے ٹیکس ،ریونیو کی کرپشن پکڑیں، نیب کا نجی لوگوں کی کرپشن یا جائیداد سے متعلق پوچھنا مینڈیٹ نہیں ہے۔آرمی چیف کو اس لیے خط لکھا کہ آرمی چیف نے کاروباری طبقات کو یقین دہانی کروائی کہ نیب مداخلت نہیں کرے گا ، جب پاکستان کے ادارے کسی کو یقین دہانی کرواتے ہیں تو اس کی کوئی حیثیت ہونی چاہیے۔اگر یہ یقین دہانی نہ کرواتے تو میں آرمی چیف کو خط نہ لکھتا ۔ پی ڈی ایم سیاسی ایشو ہے ، میرا یہ سیاسی ایشو نہیں ہے، مجھے اپنے ریلیف کی فکر نہیں، میں لوگوں کی کوئٹہ، کراچی، پنجاب، کے پی کے سے سینکڑوں کالز آئیں، نیب ہمارے ساتھ زیادتی کررہی ہے؟ اگر لوگ فون کررہے ہیں تو کیوں کالز آرہی ہیں؟ نیب سے متاثرہونے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بلائیں ہم ثبوت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو لکھا کہ احتساب کرنے والے ادارے کی پوزیشن، ڈگریاں ، اثاثے ڈکلیئر کرنا ہوں گے، کیونکہ 18، 19گریڈ کا آفیسر میرے سامنے بیٹھ کر مجھے کہتا ہے کہ آپ کاروبار کیوں کررہے
ہیں؟آپ چیک کیوں سائن کرتے ہیں؟ میری جو بھی تحقیقات ہوئی ہیں، نیب کو چاہیے وہ میڈیا کو ریلیز کردے، ،میں مطالبہ کرتا ہوں، وہ میڈیا کو جاری کرے۔ہم سینیٹ میں نیب کی تحقیقات کریں گے تو وہ میڈیا کے سامنے ہوگا اور پورا پاکستان دیکھے گا۔ سینیٹ ہر ادارے کی تحقیقات کرسکتا ہے،اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی ، ایف آئی اے سب اداروں کو سینیٹ کمیٹی دیکھتی ہیں، کمیٹی رپورٹ جاری کرتی ہے۔ جس پر حکومت عمل کرتی ہے یہی پارلیمانی سسٹم ہے۔ہر کوئی جوابدہ ہے، اگر چیئرمین نیب نہیں آتے تو قانون کے مطابق کاروائی ہوگی۔









