پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہا ہے کہ ملکی ادارے حکومت کو اپوزیشن سے بچا رہے ہیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئےسینئرکالم نگار حامد میر نے کہا کہ آج کل پاکستان کی سیاست میں وہ کچھ ہو رہا ہے جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ پہلے کچھ ریاستی ادارے اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت گرایا کرتے تھے۔ پہلی دفعہ یہ ادارے حکومت کو گرانے کے بجائے اُسے اپوزیشن سے بچا رہے ہیں۔عام آدمی کے خیال میں یہ ادارے نہ کل نیوٹرل تھے، نہ آج نیوٹرل ہیں۔ اپوزیشن نے کبھی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور کبھی ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر قانون سازی میں حکومت سے تعاون کیا لیکن حکومت نے اِس تعاون کو کمزوری

سمجھا اور آخر کار مفاہمت کے سب سے بڑے علمبردار شہباز شریف کو اڑھائی سال میں دوسری دفعہ گرفتار کروا دیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت مریم نواز کے پاس چلی گئی۔جب مریم نواز نے پی ڈی ایم کے جلسوں سے خطاب شروع کیا تو ٹی وی چینلز اُن کی تقاریر دکھانے سے گریز کرتے تھے۔ کالم نگار حامد میر نے کہا کہ گھٹن کا ماحول تھا لیکن مریم نواز نے اُس ماحول میں وہ کہنا شروع کر دیا جو کسی زمانے میں احمد فراز نے اپنی نظم ’’محاصرہ‘‘ میں کہا تھا۔ مریم نواز نے اپنی تقریروں کے ذریعے کئی محاصرے توڑنے کی کوشش شروع کی اور اُن کی اِس کوشش کو بے پناہ پذیرائی ملی۔اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ وہ سیاست میں اِس لئے آئیں کیونکہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین میں اُن کی پذیرائی کی وجہ اُن کا بیانیہ ہے جسے محصور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ جس کسی نے بھی شہباز شریف کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا وہ مریم نواز کا اصل محسن ہے۔ اُسی محسن کی مہربانی سے شہباز شریف اور مریم نواز سے چچا بھتیجی نہیں بلکہ باپ بیٹی کی طرح متحد ہو چکے ہیں۔آپ مریم نواز سے لاکھ اختلاف کریں لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ خوف کے اُس محاصرے کو توڑ چکی ہیں جس کی نشاندہی بہت سال پہلے احمد فراز نے کی تھی۔ سینئیر کالم نگار حامد میر نے اپنے کالم میں کہا کہ یہ محاصرہ اُس وقت مکمل طور پر ختم ہو گا جب مریم نواز سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنمائوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

اِسی لئے مولانا فضل الرحمٰن جیل بھرو تحریک کی تجویز دے چکے ہیں۔جیل بھرنے سے عمران خان کو فرق نہیں پڑے گا، جیل بھرنے سے خوف کا وہ محاصرہ پاش پاش ہو سکتا ہے جو آج کی اپوزیشن کا اصل ہدف ہے۔آپ اپوزیشن کی قیادت سے ڈائیلاگ کی بات کریں تو وہ تڑپ کر کہتے ہیں، بہت ہو گیا ڈائیلاگ، جاؤاُن سے کہو ہمیں مار دیں، ہمیں جیل میں ڈال دیں، اب ہم کسی پر کوئی اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ خود ہی سوچئے کہ محاصرے میں ڈائیلاگ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک طرف اپوزیشن رہنماؤں پر مقدمات، میڈیا پر دباؤ اور عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرات ہیں۔دوسری طرف وزیراعظم کہتا

ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کے پیچھے غیرملکی ہاتھ ہے تو ڈائیلاگ کیسے ہوگا؟ انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان میں ہمت ہے تو قوم کے ساتھ پورا سچ بولیں۔ اپوزیشن میں ہمت ہے تو قوم کے ساتھ پورا سچ بولے۔ جب سب کا اندر باہر واضح ہو جائے اور محاصرہ ٹوٹ جائے تو پھر ڈائیلاگ کا ماحول پیدا ہوگا اور یہ ڈائیلاگ کامیاب بھی ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں