سی سی پی او لاہور عمر شیخ ایک اور سینئرافسر کیساتھ گالم گلوچ پر اتر آئے

لاہور (نیوز ڈیسک)سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی ایک اور سینئیر افسر سے تلخ کلامی ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سی سی پی او لاہورعمر شیخ نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے ساتھ میٹنگ میں نامناسب رویہ رکھا جس پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔ گذشتہ رات سی سی پی او نے اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) جلسے میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے بلارکھا تھا۔اسی دوران کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تاہم ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بیچ بچاؤ کروایا۔ ایس ایس پی نے جھگڑے پر چارج چھوڑنے کا بھی فیصلہ کرلیا تھا۔

عمر شیخ اور افتخار کمبوہ کے درمیان نوبت گالم گلوچ تک پہنچ گئی تھی اور سینئر افسران نے بیچ بچاؤ کروایا تھا۔اس وقت بھی پی ڈی ایم جلسے سے متعلق اجلاس میں یہ تنازع ہوا تھا۔ واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے پولیس افسران کے اختلافات کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔اس سے قبل اکتوبر میں عمر شیخ کا ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کے ساتھ ”جھگڑا” ہوا تھا جس پر ایس پی کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔ جبکہ نومبر میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر تین تھانیداروں کو معطل کر کے پولیس لائن بھجوا دیا تھا۔ معطلی کے بعد پولیس لائن پہنچنے پر ایک جونیئر افسر نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو فرعون قرار دے دیا تھا۔خیال رہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف محکمہ پولیس میں افسران کی کئی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ سی سی پی او عمر شیخ اور ایس پی سی آئی کے مابین شدید تلخ کلامی بھی ہو چکی ہے۔ لیکن دوسری جانب محکمہ پولیس میں کام کرنے والے بعض اہلکار سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی شخصیت کے معترف ہیں اور ان کے خلاف بیان بازی کی مذمت بھی کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ ایک اصول پسند آدمی ہیں جو قانون کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ان کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اور اس کے لیے پُر عزم بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں