اپوزیشن کے کتنے اراکین اسمبلی نے حکومت سے رابطے کرلیے؟کھلبلی مچ گئی

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پی ٹی آئی کی طرف سے استعفے دینے کی صورت میں آئین و قانون کے تحت ضمنی الیکشن کرانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔حکومت آئین کے تحت ملک میں کوئی سیاسی خلاء پیدا نہیں ہونے دے گی۔اس بات کا اظہار یار پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی سینئر لیڈر شپ نے بتایا ہے کہ پی ٹی ایم کی بڑی جماعتوں کے درمیان استعفوں کے آپشن پر اختلافات ہیں۔پیپلزپارٹی سندھ میں استتعفے نہیں دینا چاہتی کیونکہ سے سندھ کی صوبائی حکومت ختم ہو جائے گی جس کو

پی پی پی افورڈ نہیں کر سکتی۔تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے صدر اعجاز چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم پی ڈی ایم کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔استعفے آتے ہی ضمنی الیکشن کرا دیئے جائیں گے جبکہ حکومت کو جلسے جلوسوں سے کوئی خطرہ نہیں۔اپوزیشن کی تمام جماعتوں کی طرف سے استعفوں کا آپشن قابل عمل نہیں۔ حکومت کسی بھی صورت کرپٹ رہنماؤں کو این آر او دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے بیس سے زائد ارکان پارلیمنٹ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں جو اس آپشن پر نہیں جا رہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے رابطے ہوئے ہیں لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے۔اپوزیشن کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے کے ممکنہ اعلان پر وزیراعظم عمران خان نے ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اب حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے رابطوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور آکسیجن بھی لگا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک سے زائد حکومتی شخصیات نے رابطہ کیا ہے لیکن جواب یہی دیا گیا کہ عمران خان استعفیٰ دیں، پھر کوئی بات ہوگی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کن لوگوں نے رابطہ کیا ہے اور کس سے رابطہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں