تمام اراکین پارلیمنٹ استعفے جمع کروادیں ،پی ڈی ایم اجلاس میں اہم فیصلے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ نے استعفوں سے متعلق فیصلہ کر لیا، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 31 دسمبر تک ارکان اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قائدین کو جمع کرا دیں گے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ اجلاس کے بعد قیادت نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اکتیس دسمبر تک ارکان اسمبلی اپنے استعفے پارٹی قائدین کو جمع کرا دیں گے، اسی دن پی ڈی ایم کا پھر اجلاس ہوگا جس میں مزید فیصلے ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان نے نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا 13 دسمبر کو مینار پاکستان میں جلسہ کریں گے، حکومت نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو

ملتان سے بھی برا حشر ہوگا۔انھوں نے کہا اکتیس دسمبر کے اجلاس میں پہیہ جام، شٹر ڈاؤن، جلسے اور جلوسوں کا شیڈول طے ہوگا، لانگ مارچ سے متعلق فیصلہ اور تاریخ کا تعین بھی ہوگا۔مولانا کا کہنا تھا آج وزیر اعظم نے پھر کچھ غلط باتیں کی ہیں، ہم نے حکومت کی ڈائیلاگ کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، موجودہ حکومت اس قابل نہیں کہ ان سے بات ہو۔انھوں نے کہا ہم اتفاق رائے کے ساتھ اپنے فیصلوں پر آگے بڑھ رہے ہیں، استعفے دے بھی دیے تو واپس نہیں چاٹیں گے، موجودہ حکومت ہل چکی ہے بس ایک دھکے کی ضرورت ہے۔اس سے قبل اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اہم اجلاس میں اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جیل بھرو تحریک کی تجویز دی۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے تجویز دی ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہان یا اہم رہنماؤں میں سے کسی کی گرفتاری ہوتی ہے تو اس آپشن پر غور کیا جائے۔ تمام جماعتیں اپنے کارکنوں کو اس حوالے سے تیار رکھیں۔سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں کی صورت میں احتجاجی لائحہ عمل اور قومی شاہراہوں کی بندش بھی کی جائے۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم قیادت کے تحفظات کے حوالے سے اجلاس میں نئے سال کے آغاز میں ہی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ استعفے لانگ مارچ کے بعد دیئے جائیں اور بروقت اس آپشن کا استعمال کیا جائے۔ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں نواز شریف نے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے خاتمہ پر مولانا فضل الرحمان استعفے سپیکر کو پیش کر دیں۔ تمام جماعتوں کی جانب سے نواز شریف کی تجویز کی حمایت کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں