فیصل آباد میں گھریلو ملازمہ کو تھپڑ مارنے کے معاملے کا ڈراپ سین

فیصل آباد (نیوز ڈیسک) فیصل آباد میں بد ترین تشدد کا نشانہ بننے والی 12 سالہ گھریلو ملازمہ صدف کے والد نے ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا کو دئے گئے ویڈیو بیان میں صدف کے والد اللہ دتہ کا کہنا تھا کہ بچوں کی لڑائی تھی ، انہوں نے بچوں کی لڑائی میں میری بچی کو بھی تھپڑ مار دئے۔ صدف کے والد نے کہا کہ ہماری صلح ہو گئی ہے اور ہم نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ساہیوال کے علاقہ 87 سکس آر کے رہائشی صدف کے والد اللہ دتہ نے میڈیا کو بتایا کہ بچی نے دو ڈھائی سال وہاں کام کیا تاہم اس وقعہ کے بعد اب ہمارے پاس ہے۔یاد رہے کہ دو روز قبل سوشل

میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں چند افراد کو ایک کم سن لڑکی پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔اس ویڈیو کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کی عمر 12 سال ہے اور وہ ایک گھریلو ملازمہ ہے۔بچی پر بہیمانہ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے تشدد کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا ، چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کی جانب سے بھی فیصل آباد میں کمسن گھریلو ملازمہ پر خاتون کے بہیمانہ تشدد کے واقعہ کی شدید مذمت کی گئی تھی جس کے بعد پنجاب پولیس نے کمسن بچی پر تشدد کرنے پر رانا منیر کو گرفتار کر لیا تھا۔تاہم گذشتہ روز ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مجسٹریٹ ذوالفقار احمد نے ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی تھی۔ ملزم رانا منیر کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا گیا تھا ۔ جس کے بعد آج صبح 12 سالہ گھریلو ملازمہ صدف پر تشدد کرنے والی خاتون ثمینہ کو بھی گرفتارکر لیا گیا ۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر کے ویمن تھانہ منتقل کر دیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو ایڈن ویلی میں گھر سے گرفتار کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں