لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)قائد مسلم لیگ (ن)نواز شریف والدہ کی نماز جنازہ میں لوگوں کی کم تعدادپراہم پارٹی رہنماؤں پر سخت برہم ہوگئے ۔انہوں نے لاہور کا جلسہ علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کی نما زجنازہ سے بڑا ہونے کی سختی سے لیگی رہنماؤں کو ہدایت کردی۔ 92کی رپورٹ کے مطابق نوازشریف نے والدہ کی نماز جنازہ کے بعد اہم لیگی رہنماؤں کو پوچھا کہ کتنے لوگ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آ ئے تھے ۔ انہیں کہا گیا کہ ڈھائی سے تین ہزار لوگ آئے تھے جس پرلیگی قائدنے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا پھرتویہ پارٹی ذمہ داران کی نا اہلی ہے۔
ایک لیگی رہنما نے نوازشریف کو کہا لاہور میں 3217صرف ہمارے بلدیاتی نمائندے ہیں، اگر وہ اپنے ساتھ پانچ پانچ لوگ لاتے تو حالات اورہوتے ، اس اہم شخصیت نے یہ بھی کہا کہ میاں صاحب لاہور کے تمام بلدیاتی نمائندوں کو آ پ کی ہدایت پر ٹکٹیں دی گئی تھیں، ہم ان سے کس طرح پوچھ سکتے ہیں ۔نوازشریف نے سختی سے ہدایت کی کہ اب لاہور کا جلسہ ہی ہماری اصل تحریک ہو گی، اگر لاہور میں لوگوں کی تعداد کم ہو ئی تو ہماری تحریک ناکام ہو جائے گی،اگر جلسے میں علامہ خادم رضوی کی نماز جنازہ سے کم لوگ ہوئے تو تمام عہدیداران کو تبدیل کر دیا جائے گا ۔ نوازشریف کی ہدایت اور سخت برہمی کے بعد لیگی رہنما سر جو ڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ کس طریقہ سے جلسہ کو نماز جنازہ سے بڑا کیا جائے ،ان کے حساب کے مطابق اگر تیس تیس ہزار بھی مختلف شہروں سے بلوائے جاتے تو پھر بھی نماز جنازہ جتنے لوگ اکھٹے نہیں ہو سکتے ۔ نوازشریف کی ہدایت کے حوالے سے کئی لیگی رہنماؤں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور کہا ہے کہ ہم اس چیز کا حصہ نہیں بنیں گے ۔جبکہ متعدد لگی رہنما نوازشریف کی ہدایت اور سخت برہمی کے بعد سر جو ڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ کس طریقہ سے جلسہ کو نماز جنازہ سے بڑا کیا جائے ، ان کے حساب کے مطابق اگر تیس تیس ہزار لوگ بھی مختلف شہروں سے بلوائے جاتے تو پھر بھی نماز جنازہ جتنے لوگ اکھٹے نہیں ہو سکتے ۔نوازشریف کی ہدایت کے حوالے سے کئی لیگی رہنماؤں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں اور صاف کہہ دیا ہے کہ ہم اس چیز کا حصہ نہیں بنیں گے ۔









