خدمت کا عزم: سلطان حیات رانجھا، محسن شاھنواز رانجھا اور ان کی ٹیم کی سیلاب زدگان کے لیے خدمات

تحریر: فیصل حیات

انسانی زندگی آزمائشوں اور امتحانوں سے بھری ہوئی ہے۔ جب اللہ پاک اپنے نظامِ قدرت کے تحت آفات نازل فرماتا ہے تو یہ لمحات دراصل بندوں کے صبر، حوصلے اور ایثار کا امتحان ہوتے ہیں۔ کبھی زلزلہ، کبھی طوفانی بارشیں اور کبھی دریاؤں کی طغیانی—یہ سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کائنات کا اصل اختیار اللہ ربّ العزت کے پاس ہے اور ایسے حالات میں انسان کو اپنے بھائی کی مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

اسی تناظر میں دریائے چناب کے کنارے جب سیلاب نے تباہی مچائی تو کدھی کے علاقوں بشمول مڈھ رانجھا، کچہ گُرنہ، کرتوتی، چک خانہ، بُڑکن نون، طالب والا، رھن وال، مُراد والا، گھائیوال ، ڈیوڈھی ،میانہ ہزارہ، تخت ہزارہ اور بدر رانجھا سمیت گردونواح کے دوسرے دیہات بری طرح متاثر ہوئے۔ کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے، گھر اجڑ گئے اور لوگ بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئے۔ ایسے میں کچھ شخصیات امید کا چراغ بن کر سامنے آئیں اور خدمتِ انسانیت کی لازوال مثال قائم کی۔

ان میں دو نمایاں نام ہیں: سلطان حیات رانجھا، محسن شاھنواز رانجھا اور ان کی ٹیم۔ سیلاب کے ابتدائی دنوں سے ہی انہوں نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ سب سے پہلے راشن کی فراہمی کا آغاز کیا گیا۔ آٹا، چاول، دالیں اور دیگر بنیادی ضروریات کے پیکٹ نادار اور غریب خاندانوں میں تقسیم کیے گئے تاکہ کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔

ساتھ ہی مڈھ رانجھا، کدھی اور دریائے چناب کے دیگر کنارے والے علاقوں میں ایمرجنسی کیمپ قائم کیے گئے، جہاں متاثرہ خاندانوں کو عارضی پناہ ملی۔ ان کیمپوں میں نہ صرف سر چھپانے کا سہارا دیا گیا بلکہ ادویات، صاف پانی اور بنیادی طبی سہولتیں بھی مہیا کی گئیں۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریسکیو آپریشنز بھی چلائے گئے۔ پانی میں گھرے افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے کشتیاں استعمال کی گئیں اور کئی قیمتی جانیں بچائی گئیں۔

اہم بات یہ ہے کہ متاثرین کے مویشیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔ چونکہ دیہی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ یہی مویشی ہیں، اس لیے ان کے لیے مشترکہ ٹخانے قائم کیے گئے تاکہ وہ محفوظ رہیں اور انہیں باقاعدگی سے چارہ اور پانی ملتا رہے۔ اس کے علاوہ صفائی اور ویکسینیشن کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سلطان حیات رانجھا پیشے کے اعتبار سے سپریم کورٹ کے ماہر وکیل ہیں اور مختلف اداروں میں بطور لیگل ایڈوائزر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے ایک متحرک کارکن ہیں اور مستقبل قریب میں صوبائی اسمبلی کی نشست سے اپنے علاقے کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح محسن شاھنواز رانجھا بھی پیشے کے لحاظ سے وکیل رہے ہیں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لگاتار دو مرتبہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو کر پارلیمان میں علاقے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے نہ صرف حکومت، مقامی انتظامیہ، دیگر اداروں اور این جی اوز کے ساتھ مل کر کام کیا بلکہ اپنی جیب سے بھی متاثرین کی دل کھول کر مدد کی۔ یہی اصل خدمت کا جذبہ ہے جو ان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔

بے شک پڑھی لکھی قیادت ہی عوامی مسائل کو پڑھے لکھے اور سمجھدار طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اب متاثرین کی آبادکاری کا جو اہم مرحلہ درپیش ہے، وہ انہی باشعور اور تعلیم یافتہ رہنماؤں اور ان کی ٹیم کی توجہ اور کاوشوں کا مرہونِ منت ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اصل رہنما وہی ہوتے ہیں جو مشکل اور کٹھن وقت میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔ سلطان حیات رانجھا، محسن شاھنواز رانجھا اور ان کی ٹیم نے عملی طور پر یہ ثابت کیا کہ قیادت کا اصل امتحان صرف اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ میدانِ عمل میں ہوتا ہے۔

ان کی یہ خدمات نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والے وقت کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جذبہ قائم و دائم رہے اور دریائے چناب کے متاثرہ خاندانوں اور ان کے مویشیوں کی مکمل بحالی تک یہ کاوشیں جاری رکھی جائیں۔ یہی خدمتِ انسانیت کا اصل معیار ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو خدمتِ خلق کا جذبہ عطا فرمائے، متاثرین کو جلد از جلد آباد کرے اور ہمارے ملک کو ہر قسم کی آفات و مصائب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں