اسلام آباد (پی کے نیوز) چیئرپرسن سدھن ایجوکیشنل کانفرنس وویمن ونگ خدیجہ زرین نے تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کی دوران اسیری شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 80 سالہ بزرگ رہنما کی دوران اسیری ہلاکت کشمیریوں پر گزرنے والی قیامت کی داستان بیان کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اشرف صحرائی گزشتہ ایک سال سے جموں کی جیل میں قید تھے لیکن بھارتی حکومت نے انہیں علاج معالجے کی سہولت نہیں دی، اشرف صحرائی کو اس وقت ہسپتال منتقل کیا گیا جب ان کی طبیعت سنبھلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے، ان کا کہنا تھا کہ اشرف صحرائی اور ان کے خاندان کی تحریک آزادی کیلیے عظیم قربانیاں ہیں، اشرف صحرائی مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے تھے، وہ تمام عمر سید علی گیلانی کے دست راست رہے، ان جیسے رہنما کشمیریوں کا فخر ہیں، تتحریک آزادی کیلیے اشرف صحرائی نے بیٹے کی شہادت پر کہا کہ بھارتی فوج نے ان سے درخواست کی کہ بیٹے کو واپس بلانے کیلئے اپیل کریں لیکن انہوں نے انکار کردیا، ان کا کہنا تھا عزم ہمت کا پیکر اشرف صحرائی نے کہا کہ میں دوسرا بیٹا بھی تحریک آزادی کیلئے قربان کرنے کیلئے تیار ہوں، بھارتی مظالم کے سامنے اشرف صحرائی ایک توانا درخت کی طرح کھڑے رہے، اشرف صحرائی کی قربانیوں نے دوسروں کیلئے مثال قائم کردی، ان کا کہنا تھا کہ اشرف صحرائی کی طرح دیگر حریت قائدین بھی بھارتی جیلوں میں قید ہیں، کورونا کے دوران ان رہنماؤں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں، عالمی برادری بھارت پر ان رہنماؤں کی فوری رہائی کیلئے دباؤ ڈالے۔









