سیالکوٹ ( نیوز ڈیسک )فردوس عاشق اعوان کی اے سی سیالکوٹ سونیا صدف کے ساتھ تکرار کی ایک اور ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب اب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعون اور اے سی سیالکوٹ سونیا صدف کے مابین جھگڑے کی اصل وجہ سامنے آ گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کے درمیان جھگڑے کا آغاز چینی کے معاملے پر شروع ہوا۔فردوس عاشق اعوان فی شخص دو کلو کے بجائے ایک کلو چینی دینے پر برہم ہوئی۔انہوں نے سوال کیا کہ جب کہا تھا فی شخص کو دو کلو چینی ملے گی تو عمل کیوں نہیں ہوا؟
فردوس عاشق اعوان نے اسسٹنٹ کمشنر سے استفسار کیا کہ پہلے آپ کو نہیں پتہ کہ دو کلو چینی دینی ہے؟ خاتون اسسٹنٹ کمشنر نے جواب دیا کہ انہیں ایک کلو چینی دینے کی ہدایات ملیں تھیں۔جس پر فردوس عاشق اعوان برہم ہو گیا اور کہا کہ آپ کو غلط ہدایات ملیں ہیں آپ کو یہ ہدایات کس نے دیں۔ایک کلو چینی دینا ہماری پالیسی نہیں ہے۔گذشتہ روز وزیراعلی پنجاب کی معاون خصوصی فردوش عاشق اعوان نے سیالکوٹ کے بازار کا دورہ کیا، جہاں انہوں قیمتوں میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیالکوٹ کی خاتون اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کو جھاڑ پلا دی تھی۔ فردوس عاشق اعوان کے سخت اور بُرے رویے پرپر سوشل میڈیا صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔یہاں تک کے تحریک نصاف کے اہم رکن اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے بھی فردوش عاشق اعوان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ عثمان ڈار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ سیالکوٹ کے رمضان بازار میں اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ پیش آئے ناخوشگوار واقعے پر افسوس ہوا! میں ذاتی طورپر اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کو جانتا ہوں وہ ذمہ دار اور قابل آفیسر ہیں! خواتین کا ہمارے معاشرے کے گورننس سسٹم میں کردار انتہائی خوش آئیند ہے جسے سراہا جانا چاہیئے!دوسری جانب اپوزیشن جماعت ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں فردوش عاشق اعوان کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سول سرونٹس اور بیوروکریٹس پڑھ لکھ کر، محنت کر کے، مقابلے کے امتحان پاس کر کے اس مقام تک پہنچتے ہیں، SELECT ہو کر نہیں آتے۔وزیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو افسران کی تذلیل کا لائسنس مل گیا ہے۔ یہ رعونت قابل قبول نہیں۔ سونیا صدف سے معافی مانگے۔









