لاہور (نیوز ڈیسک)لاہور میں تحریک لبیک پاکستان کے حالیہ احتجاج اور مظاہروں کے دوران شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے اہل خانہ آج بھی بے یقینی کی سی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ شہید کانسٹیبل محمد افضل اہل خانہ کے انتہائی قریب تھے اور بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے۔انہیں موت سے چند گھڑیاں قبل ہی شاید معلوم ہو گیا تھا کہ آج وہ واپس اپنے بچوں میں نہیں آ سکیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق محمد افضل گذشتہ چند روز سے اپنے اہلِ خانہ کو کہہ رہے تھے کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے نارووال میں دفن کرنا۔ 53 سالہ پولیس اہلکار، محمد افضل رات کو ہنگامی ڈیوٹی
پر جانے سے پہلے اپنی بیٹی کی خواہش پر اس کے لیے خصوصی طور پر دہی بھلے لینے گئے تھے۔یہی نہیں ڈیوٹی پر جاتے وقت انہوں نے گھر والوں سے کہا تھا کہ رات کا کھانا سب اکھٹا کھائیں گے۔لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ انہیں اب اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا کھانا نصیب نہیں ہو گا۔ محمد افضل کے بھتیجے احتشام طارق نے بتایا کہ میں بھی پولیس کانسٹیبل ہوں۔ احتشام طارق نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محمد افضل نے سوگواروں میں پانچ بچے ( دو بیٹے اور تین بیٹیاں) اور بیوہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمد افضل نے رمضان سے قبل ہی اپنی تینوں بیٹیوں کو ان کی فرمائش کے مطابق عید کے کپڑے واقعے سے دو دن قبل دلوائے تھے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ان کی تینوں بیٹیوں نے بتایا کہ تین چار دن سے ان کے والد اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ حالات کا کچھ پتہ نہیں چلتا ہے، پتہ نہیں کس وقت کیا ہو جائے، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے ضلع ناروال نے اپنے آبائی علاقے شیرگڑھ میں اپنے والدین کے قدموں میں دفن کرنا۔ محمد افضل کی بیٹوں نے مجھے بتایا کہ اس بات پر وہ اپنے والد سے بہت لڑی تھیں کہ وہ کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں مگر انہوں نے ہنس کر کہا تھا کہ یہ تو دنیا ہے اس میں کیا پتہ چلتا ہے، ویسے ہی بات کررہا ہوں۔محمد افضل تھانہ گوال منڈی میں فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کو ایمرجنسی ڈیوٹی کے لیے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن طلب کیا گیا تھا۔ جب انہیں تھانہ شاہدرہ ٹاؤن طلب کیا گیا تو اس وقت انہوں نے اپنے گھر والوں کو فون کیا اور ان سے کہا کہ
اگر ممکن ہو تو سب مل کر کھانا کھاتے ہیں، جس پر ان کے اہل خانہ نے ان کے پسندیدہ کھانے پکائے تھے اور کھانے کا انتظام کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر کی طرف آرہے تھے تو ان کی بیٹی نے فون کیا کہ اس کے لیے دہی بھلے لائے جائیں جس پر وہ گھر کے قریب سے دہی بھلے لانے واپس چلے گئے تھے۔









