یہ کسی صورت قبول نہیں ، مذہبی جماعت کے احتجاج پر علماء و مشائخ میدان میں آگئے ، سخت ردعمل کا اظہار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک بھر میں احتجاج کرنے والے مذہبی تنظیم کے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ، جس کے بعد کئی شہروں میں بند سڑکیں کھول دی گئی ہیں تاہم ملک بھر کے علماء و مشائخ نے گزشتہ دو روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی مذمت کی ہے۔علماء و مشائخ نے کہا ہے کہ سرکاری اور عوامی املاک کو جلایا جانا قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔علماء و مشائخ کی جانب سے کہا گیا کہ مظاہرین کو کسی صورت تشدد کا راستہ نہیں اختیار کرنا چاہیے تھا۔راستے بند ہونے سے روزہ داروں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔علماء و مشائخ نے مظاہرین سے بند راستے کھولنے کی اپیل بھی کی ہے۔

دوسری طرف حکومت پاکستان نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کیا گیا ، سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے ان پر پابندی لگائی جارہی ہے، یہ فیصلہ اینٹی ٹیرارزم ایکٹ 1997ء 11 (بی) کے تحت کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے ایمبولینسز کو روکا ، راستے بند کیے ، دو پولیس اہلکار شہید ہوئے 340 زخمی ہوئے ،اسلام آباد میں پولیس سے رائفل چھین کر فائرنگ کی گئی ، مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے بھی مطالبات منوانے کی کوشش کی، جن پولیس والوں کو اغوا کر کے مطالبات کیے جارہے تھے وہ اہلکارواپس تھانے پہنچ گئےہیں ، ان واقعات کے بعد پنجاب حکومت نے تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے ، ہم پابندی سے متعلق سمری کابینہ کو بھیج رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں