آئین کے تحت میں برطانیہ سے بھی سینیٹ کا حلف لے سکتا ہوں،اسحاق ڈار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں لندن میں علاج کی غرض سے موجود ہوں لیکن کورونا کی وجہ سے گذشتہ ایک سال سے کوئی ٹریٹمنٹ نہیں ہو پا رہا۔ ویسے میں ٹھیک ہوں، میری میڈیکل ٹیم نے مجھے طویل ہوائی سفر سے منع کیا ہوا ہے ، ابھی صورتحال یہ ہے کہ میرا پاسپورٹ منسوخ کیا جا چکا ہے لہٰذا اگر ڈاکٹرز مجھے سفر کی اجازت دے بھی دیں تو بھی میرے پاس ایسی کوئی سفری دستاویز نہیں ہے جس پر میں سفر کر سکوں۔اس حوالے سے میں بین الاقوامی فورمز پر آواز اپٹھاتا رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مجھ پر جھوٹا کیس بنایا گیا حالانکہ میں نے کبھی ٹیکس ریٹرن میں غفلت نہیں برتی ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں موجود پاکستانی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے نہ صرف میرا پاسپورٹ منسوخ کیا بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے میری کامیابی کا نوٹی فکیشن بھی کینسل کروادیا۔موجودہ صورتحال کے مطابق ایپکس کورٹ میں میری اپیل گذشتہ پونے دو سال سے التوا کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت کوئی قانون لانا چاہتی ہے تو اُس کے لیے قانون میں گنجائش موجود ہے۔ آئین بھی کہتا ہے کہ جو لوگ حلف کسی وجہ سے نہیں لے سکتے تو اس اعتبار سے میرے کیس میں چئیرمین سینیٹ لندن کے ہائی کمیشن میں بھی میرا حلف لے سکتے ہیں۔ میں بھی لندن کی ہائی کمیشن میں جا کر حلف لے لوں گا۔ قوم کو پتہ چل چکا ہے کہ اسحاق ڈار کا مسئلہ کیا تھا، انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق میں برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی سینیٹ کا حلف لے سکتا ہوں لیکن میری رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں