لاہور (نیوز ڈیسک)مذہبی جماعت کے کارکنوں کا احتجاج ملک کے مختلف علاقوں میں تاحال جاری ہے جس کے پیش نظر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گذشتہ روز مذہبی سیاسی جماعت کے دھرنے اور احتجاج کے دوران ملک کے کئی شہروں میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، سرکاری اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔تاہم اب مظاہرین نے پولیس افسران اور اہلکاروں کو ہی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مشتعل افراد کی جانب سے تھانے پر دھاوا بولا گیا اور پولیس موبائل وین کو نذر آتش کیا گیا۔
یہی نہیں احتجاجی مظاہرین نے ڈیرہ غازی خان میں سکیورٹی پر مامور پولیس افسران اور اہلکاروں کو بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔احتجاجی مظاہرین کے تشدد سے پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی۔مظاہرین نے ڈیوٹی پر مامور پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی وردی بھی پھاڑی جبکہ کچھ اہلکاروں پر خوب ڈنڈے برسائے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ روز احتجاج کےدوران ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ چالیس سے زائد افسران اور اہلکار زخمی ہوئے، شہید کانسٹیبل محمد افضل تھانہ گوالمنڈی میں تعینات تھا جو شاہدرہ موڑ آپریشن میں دوران احتجاج شہید ہوا۔خیال رہے کہ آج بھی لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ٹریفک جام اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہونے پر محکمہ داخلہ پنجاب نے سڑکیں کھلوانے کیلئے رینجرز کو طلب کرلیا تھا۔ محکمہ داخلہ کے مطابق جس شہر میں بھی رینجرز کی ضرورت ہوگی وہاں فورس فراہم کی جائے گی، پورے صوبے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری ہے، کچھ راستے رات گئے کھلنے کے بعد اب دوبارہ بند ہو گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق رینجرز کو سڑکیں کھلوانے کے لیے بلوا یا گیا ہے، رینجرز اہلکار پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مدد کریں گے۔وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں رینجرز تعینات کردی ہے۔ مشتعل افراد نے پولیس گاڑیوں کو آگ لگائی ہے اور عام شہریوں کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔فیروزوالا میں مظاہرین کی طرف سے رینجرز اور پولیس پر پتھراؤ کیا جس سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا۔
ہے جس کی شناخت محمد افضل کے نام سے ہوئی ۔تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان اپنے مرکزی رہنما علامہ سعدرضوی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے معاملے پر 20 اپریل کو ناموس رسالتﷺ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی نے کہا تھا کہ حکومت نے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ 16 نومبر 2020 کو معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق 3 ماہ میں گستاخ فرانسیسی سفیر ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کرنا تھا لیکن تکمیل معاہدے کے لئے 20 اپریل تک کی مزید مہلت لی گئی۔ معاہدے کی ڈیڈ لائن کا اعلان وزیراعظم پاکستان نے خود میڈیا پر کیا، اب اگر 20 اپریل تک فرانس کا سفیر نہ نکلا تو ناموسِ رسالت مارچ ہو گا۔









