اب کوئی سٹے باز نہیں بچے گا اور عوام کو چینی سستے داموں ملے گی، وزیراعظم کا سخت ایکشن

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے چینی سٹا مافیہ کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے، سٹے بازوں کے خلاف کارروائی کیلئے نئے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سٹہ مافیا کے خلاف کارروائی کے لیے ون ونڈو آپریشن کے قانون کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اب کوئی سٹے باز نہیں بچے گا اور عوام کو چینی سستے داموں ملے گی۔ذرائع کے مطابق شوگر مافیا ایک سال کے دوران چینی کی ایکس مل قیمت میں 70سے90 روپے تک اضافے کا سبب بنا۔ گزشتہ ماہ فیڈر ل انویسٹی گیشن ( ایف آئی اے) نے شوگرسٹہ مافیا کے

خلاف کمرکس لی تھی اور دس بڑے گروپس کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے تھے جس کے بعد لاہور اورفیصل آباد میں گرفتاریوں کے لیے ٹیمیں بھی تشکیل دے دی گئیں تھیں ۔ایف آئی اے نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں چینی کے بڑے ڈیلرز کے گوداموں اور دفاتر پر چھاپے بھی مارے اور اہم ریکارڈ قبضے میں لیا تھا۔چھاپوں کے بعد ڈیلرز نےچینی کی سپلائی بند کر دی تھی،جس سے مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا تھا۔ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا کہ شوگر مافیا نے کمائی چھپانے کیلیے سینکڑوں خفیہ اور جعلی اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔ایف آئی اےکی جانب سے جلد انکوائری مکمل کر کے رپورٹ اعلیٰ حکام تک پہنچائی جائے گی۔واضح رہے کہ31مارچ کو ایف آئی اے کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اوران کے بیٹے علی ترین پرمنی لانڈرنگ اور فراڈ کے مقدمات درج کیے گئے تھے ۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے الزامات کو بےبنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ۔پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین نے مبینہ فراڈ اور منی لانڈرنگ مقدمات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے اور میرے بچوں پر غلط ایف آئی آرز درج کی گئیں، تمام شیئرز قانونی، کھاتے قانون کے مطابق منتقل کیے گئےاور بیرون ملک منتقل کی گئی رقم پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے ۔ایف آئی اے نے سوا تین ارب روپے کے مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ پر جہانگیر ترین اور فیملی کے دیگر افراد پر مقدمہ درج کیا۔ دائر ایف آئی آر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی ،خوردبرداوردھوکادہی کاالزام لگایا گیاہے ۔

مقدمہ میں سابق سیکرٹری ایگری کلچر رانا نسیم کو بھی شامل کیا گیا ۔ایف آئی اے کے مطابق رانا نسیم ہی اصل میں شوگر مل مافیا کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔جہانگیر ترین نے اپنے داماد کی کاغذ بنانے والی بند فیکٹری میں جے ڈی ڈبلیو کمپنی سے سوا تین ارب منتقل کیے۔ بند فیکٹری میں منتقل ہونے والی رقم بعد ازاں فیملی ممبران کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔ جہانگیر ترین کی فیکٹری میں 26 فیصد پبلک شئیر ہولڈرز ہیں۔ دوسرے مقدمہ میں جہانگیر ترین ، انکے بیٹے علی ترین اور دو بیٹیوں کے نام بھی شامل ہیں ۔ اس سے قبل جہانگیر ترین کے خلاف درج کیے گئے مقدمے میں ایف آئی اے نے 7 اعشاریہ 4 ملین ڈالرز کی منی لانڈرنگ کر کے رقم برطانیہ منتقل کرنے اور وہاں جائیدادیں خرید نے کا الزام عائد کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں