سراج الحق نے پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد سے انکار کردیا

حیدرآباد (نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی سے کوئی اتحاد نہیں، وہ سیکولرہم اسلامی نظام چاہتے ہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ذاتی مفادات کیلئے ایک ہوجاتے ہیں، عوام کا جینا مشکل ہوگیا لیکن وزیراعظم قوم کو نہ گھبرانے کی تسلیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے اداروں کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنا قابل افسوس ہے۔سٹیٹ بینک آرڈ نینس میں ترمیم کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہم نے 8 اپریل کواسلام آباد میں گول میز قومی کانفرنس بلائی ہے جس میں سیاسی جماعتیں اورمعاشی ماہرین شریک ہوں گے۔

اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو گو آئی ایم ایف گو تحریک کا آغاز کریں گے ۔گیارہ سو دنوں میں موجودہ حکومت اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے لیے اقدامات کرتی تو پوری قوم اس کا ساتھ دیتی، لیکن افسوس کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کا ایک تسلسل ہے۔پی ٹی آئی تبدیلی کے نعرے پر آئی اور خود تبدیل ہو گئی ۔عوام وزرا کی تبدیلی نہیں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی پہلے دن سے حقیقی تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ہم ہی ملک کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بناسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس وقت واحد اور بہترین آپشن ہے ۔عوام اس مشکل وقت میں مایوسی کی بجائے رجوع الی اللہ کی طرف توجہ دیں ۔استغفار اور احتیاط سے ہی پوری انسانیت کرونا وباء سے نکل سکتی ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حیدر آباد میں سولنگی قبیلے کی تقریب سے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر زبیر سولنگی کو قبیلے کا سردار منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور روایتی پگڑی پیش کی گئی ۔تقریب میں نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو ، امیر صوبہ سندھ محمد حسین محنتی بھی موجود تھے ۔سراج الحق نے کہا کہ عوام کا جینا مشکل لیکن وزیراعظم قوم کو نہ گھبرانے کی تسلیاں دے رہے ہیں۔ حکومت نے مہنگائی کم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔پی ٹی آئی کی حکومت میں ملک مثبت تبدیلی کی بجائے مہنگائی کے سونامی کی زد میں ہے ۔حکومت کی نا اہلی نے کرونا کی صورت حال میں لوگوں کو بالکل بے بس کر دیا ہے۔ ملک میں مافیاز اور وزراء کے علاوہ ہر کوئی پریشان ہے۔

مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ رمضان کے قریب آتے ہی ذخیرہ اندوزوں نے عوام کاخون نچوڑنا شروع کردیا ہے۔ ملک کو سو دن میں ٹھیک کرنے کے وعدے 1100 دنوں کے بعد بھی پورے نہیں ہوئے۔ جماعت اسلامی اللہ کا نظام چاہتی ہے اگر کوئی اس کے لیے تیار ہے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ریاست مدنیہ کا اعلان کرنے والوں نے آج تک درست سمت میں ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ۔یہاں تو اعتراض نصاب میں شامل کسی دوسرے مضمون اور مواد کے بارے میں نہیں بلکہ صرف اسلام پڑھانے پر ہو رہا ہے۔ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں، فوری طور پر اس کا نوٹس لیا جائے۔

سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ حکومت کی ناکام پالیسوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ اضافے نے ایشیاء کے تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔چینی 110 روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔ آٹے کی قیمت میں ہوش ربا اضافے نے عوام کو دن میں تارے دکھا دئیے ہیں۔ دالوں کی قیمت آسمان کو چھورہی ہے۔ایسے لگتا ہے کہ رمضان سے قبل مہنگائی کا طوفان آگیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یوٹیلٹی سٹوز پر مہنگی چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہے جو عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔ اگر مہنگائی کے جن پر قابو نہ کیا گیا تو یہ حکومت کو کھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں