اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کشمیر کی قیمت پر نہیں ہوسکتی، دوستی اور معاشی ترقی کیلئے ہندوستان کو کشمیر پر5 اگست کی پوزیشن پر واپس جاناہوگا، عمران خان کے ہوتے کوئی کشمیر کا سودا نہیں کرسکتا،چینی اور کپاس درآمد کرنے کی بات ای سی سی میں ہوئی تھی۔انہوں نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ حکومت پاکستان نے بھارت کے ساتھ کسی قسم کی تجارت قبول نہیں کی، چینی اور کپاس بھارت سے درآمد کرنے کی بات ای سی سی میں ہوئی تھی، فیصلوں کی منظوری کابینہ دیتی ہے،
خطے میں امن کی کنجی کشمیر کے مسئلے کے حل میں ہے، امن کیلئے بھارت کو کشمیر پر5 اگست کی پوزیشن پر واپس جانا ہوگا، کسی کو کشمیر کا سودا کرنے کی جرات نہیں، عمران خان کے ہوتے کوئی کشمیر کا سودا نہیں کرسکتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات سے امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، خطے میں فیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ بھارت میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے اور مسلمانوں کا قتل عام کیا جائے ،کشمیر کے لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیں، پھر بھی ہم سمجھیں کہ دونوں ممالک ہنسی خوشی رہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔آج کابینہ نے حکومت پاکستان کی پوزیشن پر زور دیا ہے۔ ہم ہندوستان کے ساتھ دوستی اور معیشت میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، لیکن ہندوستان کیلئے پہلی شرط یہ ہوگی کہ ہندوستان کشمیر کی 5 اگست کی پوزیشن پر واپس جائے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے نجی سیکٹر کیلئے ویکسین کی قیمت کا تعین کردیا ہے۔ 98 پاکستانیوں کومفت ویکسین لگائی جائے گی، جبکہ 2 فیصد لوگ جو لائن میں نہیں لگنا چاہتے ان کو قیمت پر ویکسین کی سہولت دی جائے گی۔روسی ویکسین سے متعلق تنازع سندھ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے، ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اسپوٹنگ ویکسین کی قیمت بھی مقرر کریں گے۔ چین کی کین سائنوویکسین کی قیمت 4 ہزار 225 روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی صورتحال ہر لمحہ تبدیل ہورہی ہے، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس نے کورونا کا اس طرح مقابلہ کیا کہ دنیا نے
مثالیں دیں۔ہم کورونا کی پہلی دونوں لہروں کا کامیابی سے مقابلہ کیا اب تیسری لہر سے لوگ بڑے متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے براڈشیٹ کمیشن کی رپورٹ میں ملوث 5 لوگوں کے خلاف فوجداری کاروائی کا حکم دیا ہے، ان میں احمد بلال صوفی ، حسن ثاقب شیخ ایف بی آر میں ہیں، سابق سیکرٹری وزارت قانون غلام رسول،سابق برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط، شاہد علی بیگ، طارق فواد ملک نے براڈ شیٹ کا کنٹریکٹ کروایا تھا، ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔براڈشیٹ کمیشن نے ان پانچ لوگوں کو اہم ملزم ڈکلیئر کیا ہے، براڈشیٹ کمیشن نے ایک اور نقطہ اٹھایا کہ نیب
میں 2011اور 2017ء کے درمیان سب سے زیادہ اندھیرنگری مچائی گئی۔ قمرالزمان چیئرمین نیب تھے، ان کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سوئس دستاویزات غائب ہوگئیں، لوگوں کو دستاویزات کا پتا ہی نہیں چلا، اب ان کی مجرمابہ غفلت کا تعین کیا جائے گا، آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کی دوسری قیادت اسی لیے بری ہوئی تھی کہ جب کہا گیا تھا کہ آصف زرداری کیخلاف سوئس اکاؤنٹس کا ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، لیکن عظمت سعید شیخ کی کاوش کی ریکارڈ دوبارہ حاصل کیا گیا ہے، اب دوبارہ سوئس اکاؤنٹس کھل سکتے ہیں۔ہماری قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔ براڈ شیٹ نے کہا کہ شہادتوں کو ضائع کرنا یا چھپانا مجرمانہ فعل ہے، اس پر سابق چیئرمین نیب کیخلاف کاروائی کی جائے گی۔ کابینہ اجلاس میں شہزاد اکبر نے چینی سٹہ مافیا کیخلاف بریفنگ دی ، پاکستان کی 45 فیصد چینی کی پیداواردو خاندانوں آصف زرداری اور نوازشریف خاندان کے پاس ہے۔اسی طرح پٹرولیم بحران کا جائزہ لیا گیا ہے، کمیٹی نے جو فیصلے کیے اس کے مطابق ندیم بابر کو فرانزک رپورٹ تک عہدے سے الگ کیا ہے۔









