اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کو اپنی ناکامیوں کا خوف نہیں رہا ، انہیں یقین ہے کہ بادشاہ گروں کے پاس ان کا کوئی متبادل نہیں اور اسی لئے انہوں نے بے خوف ہو کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ خط وکتابت شروع کر دی ، واجپائی اور مودی جب خود چل کر پاکستان آئے تھے تو مقبوضہ جموں وکشمیر میں 370 ختم نہیں ہوا تھا لیکن نواز شریف کو غدار قرار دے دیا گیا 370 ختم کرنے والے مودی عرف ہٹلر سے عمران خان نے دوستی لگا لی ہے خدا نہ کرے 5 اگست کا دن ہمارے لئے ایک اور 16 دسمبر بن جائے ،
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کیا۔تفصیلات کے مطابق قومی روزنامہ کے لیے اپنے ایک کالم میں انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم عمران خان پچھلے سال تک جس کو ہٹلر کہا کرتے تھے اب اسی مودی کو خط لکھ کر کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی عوام بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں ، بھارت کے ساتھ دوستی کوئی بری بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں جب کوئی دوسرا بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کرتا تھا تو عمران خان اور ان کے سرپرست اسے غدار کیوں قرار دیتے تھے؟۔حامد میر نے لکھتے ہیں کہ جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی خود چل کر پاکستان آئے تو اس وقت عمران خان نے نواز شریف کو ’مودی کا یار‘ قرار دیا ، پھر یہی مودی ہٹلر قرار دیا گیا اور اب اچانک یہی مودی ہمارے وزیراعظم عمران خان کا یار بن گیا ہے جب کہ مودی کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ کرو اور کشمیریوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دو۔سینئر صحافی کے مطابق مودی حکومت نے 2007 کے مشرف فارمولے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور پاکستان میں بھی اس فارمولے کو نیا نام دیکر میڈیا میں سیلز ایجنٹ تلاش کیے جا رہے ہیں تاکہ پروڈکٹ کو عوام کیلئے قابلِ قبول بنایا جائے کیوں کہ نظر یہ آ رہا ہے کہ عمران خان کا اصل مسئلہ اب مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر ہے جہاں جلد نئے انتخابات ہونے والے ہیں ، ان انتخابات میں عمران خان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔









