لاہور(نیوز ڈیسک)موٹروے پر فرانس پلٹ خاتون سے زیادتی کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرمان عابد ملہی اور شفقت عرف بگا نے اپنی سزائوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ مجرمان کی اپیل میں سرکار اور مدعی مقدمہ سردار شہزاد کو فریق بنایا گیا ہے۔ مجرمان کی جانب سے محمد قاسم آرائیں ایڈووکیٹ سمیت دیگر نے اپیل دائر کی۔اپیل انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 25 کے تحت دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں مجرمان عابد ملہی اور شفقت بگا ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے،
اپیل میں یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ استغاثہ اور متاثرہ خاتون نے اس بات کو ٹرائل عدالت نے تسلیم کیا کہ وقوعہ رات کے وقت کا تھا جہاں روشنی کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔اپیل میں دعوی کیا گیا کہ مدعی اور متاثرہ خاتون نے جو حلیے بتائے وہ مجرموں سے مطابقت نہیں رکھتے۔دونوں مجرمان کی شناخت پریڈ لاہور ہائی کورٹ کے رولز اینڈ آڈرز کے مطابق نہیں کی گئی اور شناخت پریڈ 22 دنوں کی تاخیر سے کرائی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ موقع کے گواہ راہگیر خالد مسعود نے ٹرائل کورٹ میں بیان نہیں دیا اور نہ ہی اس نے شناخت پریڈ میں حصہ لیا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ مجرمان کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں سزا دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔مجرمان کی اپیل کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔ خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے والے مرکزی ملزمان عابد ملہی اور شفقت بگا کو سزائے موت سنائی تھی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیمپ جیل لاہور میں موٹروے کیس کا فیصلہ سنایا عدالت نے عابد ملہی اور شفقت بگا کوسزائے موت اور عمر قید کی سزا سنا دی. انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزم عابد ملہی اور شفقت بگا کو 376/2 کے تحت موت سنائی تھی دونوں ملزمان کو دفعہ 365اے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی دونوں ملزمان کو دفعہ 392 میں 14، 14 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی. انسداد دہشت گردی عدالت نے دونوں ملزمان کو دفعہ 440 کے تحت
5، 5 سال قید کی سزا سنائی تھی دونوں ملزمان کو دفعہ 337 ایف ون میں 50 ،50 ہزار جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔دونوں ملزمان کو 337 ایف 2 میں بھی 50 ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد موٹر وے زیادتی کیس کا فیصلہ 18 مارچ کو محفوظ کیا تھا تقریباً 6 ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ سنایا.









