کرپشن ثابت ہونے پر سرکاری افسر کو 10 سال قید اور ساڑھے 6 کروڑ روپے جرمانے کی سزا

لاہور (نیوزڈیسک) احتساب عدالت لاہور نے مجرم افتخار احمد کو کرپشن ثابت ہونے پر 10 سال کی سزا سنا دی۔احتساب عدالت لاہور میں نیب ریفرنس پر اہم فیصلہ سنا دیا گیا۔ مجرم افتخار احمد کو قید کے علاوہ ساڑھے 6 کروڑ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔نیب کے مطابق عدالت نے مجرم کے کرپشن سے بنائے تمام اثاثہ جات بحق سرکاری ضبط کرنے کے احکامات دیے ہیں اور جرمانہ نہ دینے پر مجرم کے موجودہ اثاثہ جات کو بھی ضبط کر لیا جائے گا۔عدالت نے مجرم کو 10 سال کے لیے کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے مجرم افتخار احمد 10 سال کے لیے

سرکاری اور نیم سرکاری بینک سے قرض یا لین دین کے لیے بھی نااہل ہو گا۔عدالت نے مجرم افتخار احمد کو فوری طور پر سینٹرل جیل لاہور منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔ملزم کیخلاف جاری فیصلہ کے مطابق ملزم افتخار احمد کو اگلے 10 سال تک کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری بینک سے مالی قرض یا لین دین کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔معزز احتساب عدالت نے ملزم افتخار احمد چیمہ کو فوری طور پر سینٹرل جیل لاہور منتقل کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔نیب لاہور نے ملزم کیخلاف تحقیقات مکمل کرتے ہوئے 2017 میں کرپشن ریفرنس احتساب عدالت کے روبرو دائر کیا۔ترجمان کے مطابق نیب لاہور کا 2020 کے دوران ملزمان کو سزائیں دلوانے کا مجموعی تناسب 78 فیصد رہا ہے۔چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی واضح ہدایات ہیں کہ بدعنوانی کے تمام مقدمات میں ٹھوس شواہد پر مبنی ریفرنس معزز عدالتوں میں دائر کئے جائیں ۔واضح رہے کہ افتخار احمد کسٹم افسر تھا جسے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں سزا سنائی گئی۔ نیب لاہور کے مطابق تحقیقات مکمل کر کے 2017 میں کرپشن ریفرنس عدالت میں دائر کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں