جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا جنگل دو طاقتور سیاسی گروپوں کے قبضے کے تنازعے میں جل کرراکھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)جنوبی پنجاب کا16ہزار ایکٹرسے زائدرقبے پر مشتمل سب سے بڑا جنگل دو طاقتور سیاسی گروپوں کے قبضے کے تنازعے میں جل کرراکھ ہوگیا جبکہ پنجاب حکومت اور محکمہ جنگلات معاملے سے مکمل طور پر لاعملی کا اظہار کررہے ہیں تفصیلات کے مطابق جنوبی پنجاب کے دو اضلاع ڈیرہ غازی خان اور مظفرگرھ میں پھیلے لاشاری والا جنگل میں ایک ہی مہینے کے اندر دو بار آگ ”بھڑکی“ جس میں کئی ہزارایکٹرپر قیمتی درختوں کے علاوہ لاکھوں پرندے اور جانور بھی جل کر مر گئے ہیں.ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان نے جنگل میں آگ لگنے کے حوالے سے تحقیقات

کا آغاز کر دیا ہے فنڈ کے مطابق پاکستان کے محکمہ جنگلی حیات کے پاس کسی قسم کا ڈیٹا موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ لاشاری والا جنگل میں کتنے اور کس قسم کے درخت ہیں اور اس جنگل میں کون کون سے پرندے اور جانور پائے جاتے ہیں. موسمی تبدیلی کے باعث جنگلات پر دنیا بھر میں توجہ دی جا رہی ہے لیکن پاکستان میں شاید اس کو نہ تو توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہی زیادہ آگاہی تقسیم ہند کے وقت پاکستان میں جنگلات کل رقبے کا 33 فیصد تھا جو کہ 1990 میں کم ہو کر محض 3.3 فیصد جبکہ 2015 میں مزید کم ہو کر 1.9 فیصد رہ گیا.ایسی تشویش ناک صورت حال کے باوجود ملک میں جنگلات میں لگی آگ کے واقعات کے حوالے سے اور کس پیمانے پر آگ لگی کے بارے میں کسی قسم کا ڈیٹا موجود نہ ہونے کو حکومتی لاپروائی اور بے حسی ہی کہا جا سکتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ایسی اہم معلومات کی عدم موجودگی کے باعث قومی سطح پر جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے پالیسی یا سٹریٹیجی نہیں بنائی جا سکی ہے جنگلات ہماری روز مرہ کی زندگی سے لے کر وہ ہوا جس میں ہم سانس لیتے ہیں کا اہم جزو ہے.جنگلی حیات کو خوراک سے لے کر ان کی پناہ گاہ تک جنگلات کی اہمیت کو جتنا زیادہ اجاگر کیا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن اس کے باوجود ہم جنگلات کی تباہی کو خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہے ہیں لاشاری والا جنگل کا شمار رامسر سائٹس میں ہوتا ہے دنیا بھر میں 2400 رامسر سائٹس موجود ہیں جن میں سے 19 سائٹس پاکستان میں

ہیں رامسر کنونشن ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کے تحت ان سائٹس کا تحفظ فرض بنتا ہے.پاکستان اس بین الاقوامی معاہدے کا حصہ 23 نومبر، 1976 میں بنا ملک میں اس وقت 19 ایسی سائٹس ہیں جو کہ رامسر سائٹس ہیں جن کا کل ملا کر رقبہ 33 ہزار ایکڑ سے زیادہ بنتا ہے رامسر کی ویب سائٹ کے مطابق یہ علاقہ حکومت پنجاب کی ملکیت ہے اور محکمہ زراعت کے پاس اس کا نظام ہے اس سائٹ کو سب سے پہلے جنگلی حیات کی سینکچیوری 1972 میں قرار دیا گیا، پھر دوبارہ اپریل 1983، پھر جولائی 1988 اور آخر میں مارچ 1993 میں رامسر کے مطابق اس سائٹ کو پہلے

ہی سے غیر قانونی طور پر درختوں کی کٹائی اور ان کو آگ لگائے جانے سے خطرہ لاحق تھا.بتایا گیا ہے جنوبی پنجاب میں جنگلات کا لاکھوں ایکٹررقبہ محکمہ جنگلات اور حکومتوں کی ملی بھگت سے کئی دہائیوں سے بااثرسیاسی خاندانوں کے قبضوں میں چلا آرہا ہے مگر کسی حکومت نے اس رقبے کو واگزارکروانے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے جنگلات اور دیگر سرکاری زمینیں قبضہ گروپوں کے تسلط میں جارہی ہیں مقامی نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ علاقے بااثرخاندانوں نے جنگل پر قبضے کے لیے کئی بار پہلے بھی جنگل میں آگ لگوائی ہے مگر کسی حکومت نے ان کے

خلاف کاروائی کی جرات نہیں کی.دوسری جانب محکمہ جنگلی حیات کو معلوم ہی نہیں ہے کہ اس جنگل میں کس قسم کے درخت لگے ہیں، کتنے پرانے ہیں اور تعداد کیا ہے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے محکمے کے پاس جنگل کے درختوں‘جانوروں اور پرندوں کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں ہے گذشتہ سال ستمبر میں بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت کے جنگلات میں آگ لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے کم از کم 40 کلومیٹر رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا اور درخت اور چرند پرند سمیت سب کو ختم کر دیا محکمہ جنگلات کا اس وقت کہنا تھا کہ ان کو بھی سوشل میڈیا

ہی سے معلوم ہوا ہے کہ جنگل میں آگ لگ گئی ہے اس وقت یہ بھی کہا گیا کہ جائزہ لینے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ جنگل میں کتنے اہم درخت موجود تھے.پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت وائلڈ لائف سینکچیوری میں درختوں کی کٹائی ممنوع ہے لیکن ملک بھر میں ایسے مقامات میں لوگ اپنی روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے اور روز گار کے باعث درخت کاٹتے ہیں اگرچہ ملک کے محکمہ وائلڈ لائف کو تو شاید اس بات کا علم نہ ہو کہ لاشاری والا جنگل میں کون سے جانور اور ان کی تعداد کا لیکن ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق بااثرسیاسی خاندانوں کی جانب

سے ان جنگلوں کو ذاتی شکارگاہیں بنانے سے اس سینکچیوری میں انڈس ہرن کا شمار خطرے سے دو چار حیات میں ہوتا ہے جبکہ سرخ لومڑی اور اود بلاؤ معدوم ہو گئے ہیں.رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہرن اس سینکچیوری کے کچھ علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور ان کی بقا کا دارومدار موثر نگرانی پر ہے رپورٹ کے مطابق اگر 25 ہرن اس سینکچیوری میں موجود ہیں تو ان کی معدمیت میں 18 برس لگیں گے لیکن اگر 15 ہرن ہی ہیں تو ان کو معدوم ہونے کے لیے محض دس سال کا قلیل عرصہ لگے گا رامسر سیکچیوری پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ 1974 کے تحت پروٹیکٹڈ ایریا یعنی محفوظ علاقہ ہے ابھی تک پنجاب حکومت یا محکمہ جنگلات نے کسی قسم کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں