دو روز قبل ویکسین لگوانے والےوزیراعظم کے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد ویکسین پر سوالات اٹھنے لگے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد بعض عناصر نے کورونا ویکسینیشن کے عمل پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔کیونکہ وزیراعظم عمران خان کو ایسے وقت میں کورونا ہوا جب انہوں نے دو روز قبل ہی ویکیسن لگوائی،ایسے میں کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ آیا کورونا ویکیسن موثر بھی ہے یا نہیں۔بتایا گیا ہے کہ ۔ویکسین لگانے کے بعد اینٹی باڈیر بننے میں دو ہفتے تک لگ جاتے ہیں۔ یعنی ویکسین لگوانے کے بعد بھی جب تک اینٹی باڈیز ڈیویلیپ نہ ہو جائیں آپ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک ہی کافی نہیں،دو خوراکوں کے بعد قوتِ مدافعت بڑھناشروع ہوتی ہے۔چونکہ ویکسین کی پہلی خوراک کےبعد عمران خان کو کورونا ہونے سے کئی افواہیں جنم لے رہی ہیں اس لیے عمران خان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے ایک پیغام جاری کریں اور کورونا ویکیسن کی افادیت سمجھائیں کیونکہ پہلے پاکستان میں کئی لوگ ویکیس لگوانے سے انکاری ہیں اور ایسی صورتحال میں مزید گمراہ ہو رہے ہیں۔وزیراعظم کا یہ پیغام عوام کیلئے اشد ضروری ہے۔اسی حوالے سے ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو ویکسین لگنے سے پہلے کورونا ہوچکا تھا تاہم وہ الحمدللہ خیریت سے ہیں ، وزیر اعظم صحت یاب ہوں گے پھر ویکسی نیشنل کا فیصلہ ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے رابطے میں رہنے والوں کا بھی کورونا ٹیسٹ ہوگا ، کیوں کہ یہ وائرس زیادہ آسانی سے پھیلتا ہے ، اس قسم کا وائرس ایک شخص کو ہو تو پورے خاندان کو ہوتا ہے ، اس لیے جو لوگ 2 سے 3دن رابطے میں رہے ان کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت ہمارے ہاں 50فیصد کورونا وائرس برطانوی قسم کا ہے ، اس کے علاوہ برازیل کا وائرس بھی خطرناک ہے اس لیے جنوبی افریقہ اور برازیل سے آنے والے مسافروں پر پابندی لگا رہے ہیں ، میڈیا بھی کورونا سے بچنے کے لیے احتیاط کے پیغام کو آگے بڑھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں