اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہی اجلاس میں سابق صدر آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے درمیان سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔اپوزیشن اتحاد کا سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت جاری ہے جس میں آصف زرداری کے خطاب نے ماحول کو گرما دیا۔ سابق صدر نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان تشریف لائیں، لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا ہوگا۔ذرائع کے مطابق مریم نواز نے آصف زرداری سے سوال
کیا کہ والد کی جان کو خطرہ ہے، وطن واپس کیسے آئیں؟ آصف زرداری گارنٹی دیں کہ میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ نہیں ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے سابق صدر کو جواب دیا کہ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں، جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مریم کا کہنا تھاکہ نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے۔پی پی ذرائع کے مطابق مریم نوازاور آصف زرداری کا مکالمہ ہوا اور مریم نے کہا کہ میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں، والد کی جان کو خطرہ ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ جمہوری قوتوں نے دھاندلی کا سامنا کیا ہے، میں نے اپنی زندگی کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں، اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔ جب 1986 اور 2007 میں شہید بی بی وطن آئیں تو ہم نے پورے ملک کو متحرک کیا تھا۔ذرائع کے مطابق سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں لانگ مارچ کی ایسی ہی منصوبہ بندی کرنا ہوگی کہ جیسے 1986 اور 2007 میں شہید بی بی کی آمد پر کی تھی۔ مجھے کسی کا کوئی ڈر نہیں۔ تاہم جدوجہد ذاتی عناد کے بجائے جمہوری اداروں کے استحکام کی جدوجہد کیلئے ہونا چاہیے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے سینیٹ انتخابات لڑے اور سینیٹر
اسحاق ڈار ووٹ ڈالنے نہیں آئے، میاں صاحب، آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے؟ آپ نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ان کا کہا تھا کہ نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ، آپ کو وطن واپس آنا ہوگا۔ میں جنگ کے لئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے۔ آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں، میں نے پارلیمان کو اختیارات دیئے۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں نے 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی منظور کیا جس کی مجھے اور میری پارٹی کو سزا دی گئی۔ ہم اپنی آخری سانس تک جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔ اسمبلیوں کو چھوڑنا عمران خان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے فیصلے نہ کئے جائیں کہ جس سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے انتشار کا فائدہ جمہوریت کے دشمنوں کو فائدہ دے گا، پاکستان پیپلزپارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے، ہم پہاڑوں پر سے نہیں بلکہ پارلیمان میں رہ کر لڑتے ہیں۔









