اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ٹک ٹاک ایپ پر پابندی کے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر حکومتی ردعمل بھی آگیا ، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کاروبار کو عدالتی فیصلوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے ، کیوں کہ ہمارے ججز ٹیکنالوجی بزنس سے آگاہ نہیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے چیف جسٹس کو خط لکھوں گا کیوں کہ ٹیکنالوجی کاروبار کو عدالتی فیصلوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے ، اس صورتحال میں یہ جاننا ضروری ہے کہ پابندیوں سے کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ہمارے ججز ٹیکنالوجی بزنس سے آگاہ نہیں ہیں ، سپریم کورٹ سے ایم او یو بھی سائن کرنا چاہیں گے ، انٹرنیٹ مواد کو روکنا مستقبل میں ممکن نہیں رہے گا ، اس لیے اخلاقی تربیت کا کام گھروں اور والدین کا ہے، اخلاقیات کی بنیاد پر عدالت کو فیصلے نہیں کرنے چاہئیں ، پابندیاں لگانا بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہے۔واضح رہے کہ جمعرات کے روز پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی ڈویڑن بینچ نے ٹک ٹاک ایپلیکیشن کو بند کرنے کا حکم دیا ، پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ میں ٹاک ٹاک پر پابندی کے حواے سے دائر کردہ رٹ درخواست کی سماعت ہوئی جہاں ڈی جی پی ٹی اے، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور درخواست گزار وکیل نازش مظفر اور سارہ علی عدالت میں پیش ہوئے ۔دوران سماعت فاضل چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک کا آفس کہاں پر ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتا ہے ، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کا ہیڈ آفس سنگاپور میں ہے، پاکستان میں اس کا آفس نہیں ہے، دبئی سے کنٹرول کیا جارہا ہے ، عدالت کو پی ٹی اے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ہم نے ٹک ٹاک کے عہدہ داروں کو درخواست دی ہے لیکن ابھی مثبت جواب نہیں آیا ، فاضل عدالت نے وکلاء کے دلائل کے بعد اپنے مختصر حکم میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی ۔چیف جسٹس قیصررشید خان نے سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹک ٹاک پر جو ویڈیوز لوگ آپ لوڈ ہوتی ہے یہ ہمارے معاشرے کو قابل قبول نہیں ہے ، ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے اس کو فوری طورپر بند کیا جائے ، یاد رہے کہ فحاش مواد کے پھیلاو کے الزام پر گزشتہ برس بھی پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم کچھ روز بعد کمپنی حکام کی جانب سے حکومت پاکستان کے اعتراضات دور کرنے کی یقین دہانی پر سوشل میڈیا ایپ پر عائد پابندی ختم کر دی گئی تھی۔









