کراچی(نیوز ڈیسک)نقیب اللہ قتل کیس میں استغاثہ کے گواہوں نے سابق ایس ایس پی کراچی راؤ انوار اور دیگر دو ملزمان کے زیر استعمال فون نمبرز کی تصدیق کردی ہے۔کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار، شعیب شوٹر اور پولیس اہلکار امان اللہ مروت کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا۔دوران سماعت عدالت نے 2 پولیس ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے تین گواہ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیے گئے۔ گواہوں نے راؤ انوار، شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت کے زیر استعمال فون نمبرز کی تصدیق کردی۔استغاثہ کے گواہان نے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان امان اللہ مروت، شعیب شوٹر اور راؤ انوار سے انہی
نمبروں پر رابط ہوتا رہا۔ مختلف کاموں سے متعلق ان نمبرز سے ملزمان سے بات ہوتی تھی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کیس کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کے مزید گواہوں کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود 13 جنوری 2019 کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے ہاتھوں جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد راؤ انوار اور ان کے ساتھیوں کو نقیب اللہ محسود قتل کیس میں سزا سنائی گئی تھی ، جب کہ نقیب اللہ محسود سے قبل بھی راؤ انوار پر جعلی پولیس مقابلوں کے الزامات تھےتاہم نقیب اللہ محسود کے واقعے کے بعد اس معاملے کو ملک گیر سطح پر سیاسی و غیر سیاسی سرکاری تنظیموں نے اٹھایا اور سپریم کورٹ نے بھی اس کیس کا ازخود نوٹس لیا۔









