اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئرصحافی و تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا کہ جمال خاشقجی کے معاملے پر پاکستان نے سعودی عرب کی حمایت کر دی ہے، اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب نے لابنگ کی ہے۔ پاکستان میں میرا گُمان یہ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خود وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کیا ہے ، یا انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کیا ہے یا پھر انہوں نے جنرل صاحب سے رابطہ کیا ہے البتہ کچھ بھی وزیراعظم عمران خان کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔
ہارون الرشید نے کہا کہ کچھ عرصہ میں گوادر میں کچھ ہی عرصہ میں آئل ریفائنری لگے گی جو پاکستان کے لیے کافی خوش آئند ہے ۔سعودی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونا تھا ، سارے ٹی وی چینلز نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں بیس روپے کا اضافہ ہو رہا ہے وہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ، سینیٹ الیکشن آ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ فی الحال نہیں ہو گا ، اگر ہو گا بھی تو اتنا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ندیم بابر کو اللہ عقل دیتا تو فیول کے معاملے پر تیس سے پینتیس ڈالر یا چالیس ڈالر کا لانگ ٹرم معاہدہ ہو سکتا تھا ، جب سے یہ وائرس شروع ہوا ہے پٹرول کا کوئی خریدار نہیں تھا اُس وقت فائدہ اُٹھایا جا سکتا تھا ، یہ کامن سینس کی بات تھی اس کے لیے کوئی زیادہ ماہر ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ دوسری جانب ہفتے کو پاکستانی دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے حق میں بیان دیا جب کہ کل بروز اتوار ملک کے ایک ہزارعلما و مشائخ نے لاہور میں ہونے والی ایک کانفرنس میں قرار داد کے ذریعے سعودی عرب کی حمایت کی۔اس قرارداد کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے مشرق وسطی و بین المذاہب ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کل لاہور میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں ایک ہزار علما، جن کا تعلق مختلف مکتبہ فکر سے تھا، نے پاکستان کی وزرات خارجہ اور سعودی وزرات خارجہ کے اس موقف کی تائید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے انصاف کے سارے تقاضے اس مقدمے کے حوالے سے پورے کئے ہیں۔‘‘
سعودی عرب سے پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی کام کرتے ہیں اور ملک کو بہت اہم زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاض نے مختلف مواقع پر پاکستان کی مالی مدد بھی کی ہے جب کہ ادھار تیل بھی فراہم کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفارت کار شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ انتہائی دانشمندانہ ہے۔ ”پاکستان نے سعودی حمایت کا اعلان کر کے اور اس سے اظہاریکجہتی کر کے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ اب اگر وہ مشکل میں ہے تو ہمیں بالکل اظہار یکجہتی کرنی چاہیے۔‘‘









