اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے منسوب ٹویٹر اکاؤنٹ سے ملاملہ کو دھمکیاں دئیے جانے کے بعد اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا تھا، بی بی سی کی رپورٹ کے کے مطابق ملالہ یوسفزئی کو ٹویٹر پر ایک دھمکی آمیز پیغام موصول ہونے کے بعد ان کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کہا کہ انہیں قابل اعتماد ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ احسان اللہ احسان کا ہی ٹویٹر اکاؤنٹ تھا۔اور اب احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں تصدیق کی کہ یہ ان کا ہی اکاؤنٹ تھا جسے اب معطل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا وزیراعظم کے فوکل پرسن نے ٹویٹ کیے اور یہ کور کرنے کی کوشش کہ یہ جعلی اکاؤنٹ ہے۔یہ بالکل جعلی اکاؤنٹ نہیں تھا۔میرا ہی اکاؤنٹ تھا جسے ٹویٹر انتظامیہ نے معطل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معمول کے اقدامات ہیں لیکن وہ جلد ہی ایک نئے اکاؤنٹ کے ساتھ ٹویٹر پر موجود رہیں گے۔واضح رہے کہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو سوشل میڈیا پر دہشتگردوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ملالہ یوسفزئی نے برطانوی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آبائی علاقہ سوات ان کو جان سے زیادہ عزیز جبکہ برمنگھم ان کا دوسرا گھر ہے۔ سوات میں قاتلانہ حملے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو علاج کیلئے برمنگھم منتقل کیا گیا تھا۔تب سے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کو ایک اکاؤنٹ سے وطن واپس آنے اور حساب چکانے کی دھمکی دی گئی، اکاؤنٹ ہولڈر ایک دہشتگرد تنظیم کا لیڈر تھا، اس کے جواب میں ملالہ یوسفزئی نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان ہے جس نے مجھ پر قاتلانہ حملے سمیت دیگر بے گناہ لوگوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔اب یہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ ملالہ یوسفزئی نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر مینشن کرتے ہوئے پوچھا کہ احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟۔ملالہ یوسفزئی کی جانب سے ٹوئٹ ہونے کے بعد وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیک اکاؤنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اس فیک اکاؤنٹ کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ٹوئٹر کو ارسال کردی ہیں۔ چند شرپسند عناصر کو سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کا پرچار نہیں کرنے دیں گے۔









