لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوام دشمنی قرار دیدیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں مریم نواز شریف نے لکھا کہ پٹرول بم گرانے کے ایک ہفتے کے اندر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بدترین عوام دشمنی ہے۔مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں کا اثر ضروریات زندگی کے تمام اشیا پر ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت نے عوام کو اس قابل چھوڑا ہے کہ وہ نااہلی کے عذاب کا ہر ہفتے مقابلہ کرسکیں؟ غریب کیسے زندہ رہے؟
خیال رہے کہ حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈالتے ہوئے بجلی فی یونٹ ایک روپیہ پچانوے پیسے مہنگی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔وفاقی وزرا نے بجلی مہنگی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکومت ہمارے لیے بارودی سرنگیں چھوڑ کر گئی۔ (ن) لیگی دور کے غلط معاہدوں کے باعث بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر مجبور ہیں۔قبل ازیں اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر توانائی وزیر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے بارودی سرنگیں لگائی جس کا مطلب لازمی ادائیگیاں ہیں، بجلی خرچ کریں یا نہ کریں ادائیگی کرنا ہوتی تھی، 2019 تک 227 ارب کی ادائیگی کرنا تھی جب کہ 2023 تک یہ لازمی ادائیگیاں 1455 ارب روپے ہو جائیں گی، مسلم لیگ (ن) نے دانستہ طور پر بدنیتی کے تحت یہ سارے معاہدے کیے اور کارخانے لگائے، یہ صورتحال ہمیں ورثے میں ملی۔وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کورونا کے دور میں آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود 473 ارب کی سبسڈی دی گئی، مشکل ترین دور میں پاور سیکٹر کو سبسڈی دی گئی تاہم اب ایک روپے 95 پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے جارہے ہیں، اضافے کے لیے نیپرا میں درخواست دے رہے ہیں جب کہ ن لیگ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے یہ اضافہ کئی گنا زیادہ بنتا ہے۔وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ معیشت کے تناظر میں بجلی پر بات کرنا چاہتا ہوں، چند ماہ سے معیشت کے حوالے سے اچھی خبریں آرہی ہیں اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، برآمدات اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، مسلم لیگ (ن) کے فیصلوں کی روشنی میں 9 روپے فی یونٹ اضافہ کرنا لازمی تھا تاہم پی ٹی آئی نے ایسا نہیں کیا۔









