فیصل آباد ( نیوز ڈیسک)فیصل آباد کے علاقے ڈجکوٹ میں پویس نے ناکے پر نہ رکنے پر گاڑی پر فائرنگ کردی۔فائرنگ کے نتیجے میں وقاص نامی شخص جاں بحق ہوگیا جبکہ اس کے 3 ساتھی زخمی ہوگئے ۔گاڑی میں موجود وقاص کے کزن کا اہم بیان سامنے آیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہم بائی پاس سے دوستوں سے مل کر واپس آرہے تھے،ناکے پر پولیس نے روکا تو ہم رک گئے، اس دوران گاڑی کا ٹائر ایک اہلکار کے پاؤں پر آ گیا تو پولیس اہلکاروں نے ہمارے ساتھ گالم گلوچ شروع کر دیا۔جس کے بعد وقاص نے گاڑی بھگا دی اور ہم گاؤں آ گئے۔اس کے بعد پٹرولنگ پولیس نے روکا تو وقاص نے
گاڑی سے نکل کر ہاتھ کھڑے کر دئیے مگر پولیس اہلکار نے کہا کہ تم نے میرے پاؤں پر گاڑی چڑھائی پھر فائرنگ شروع کر دی۔پٹرولنگ اہلکار وقاص پر فائرنگ کرنے کے بعد 3 گھنٹے تک اپنی گاڑی میں یرغمال بنائے رکھا۔لواحقین نے پولیس انکوائری سے انکار کر دیا ہے۔اسپتال سے ایس ایچ کو واپس بھیج دیا اور کہا کہ آپ ہمارے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔پولیس کو دیکھ کر خوف آتا ہے آپ جہاں سے چلے جائیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد کے بعد فیصل آباد میں بھی پولیس گردی، پٹرولنگ پولیس نے معمولی تلخ کلامی کے بعد تعاقب کر کے کار پر فائرنگ کر دی جس سے ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔ چار اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا، تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی، وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ گذشتہ رات جہانگیر موڑ کے قریب ناکے پر موجود پٹرولنگ اہلکاروں نے محمد وقاص کی گاڑی کو روکا، گاڑی کا ٹائر اہلکاروں کے پاوں پر آنے سے تلخ کلامی ہوئی۔ محمد وقاص خوف کے مارے ساتھیوں سمیت گاڑی پر فرار ہوا، پٹرولنگ اہلکاروں نے تعاقب کر کے فائرنگ کرتے ہوئے وقاص کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور قتل کو پولیس مقابلے کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔لواحقین کے احتجاج پر اے ایس آئی سمیت 4 اہلکاروں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، لیکن لواحقین نے پولیس ایف آئی آر کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مقدمہ میں دہشتگردی کی دفعہ شامل کرنے اور واقعہ کی جوڈیشنل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی او فیصل آباد محمد سہیل چوہدری نے واقعے کی انکوائری کے لئے ایس پی اقبال ٹاون حافظ کامران کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب نے بھی معصوم شہری کے قتل پر واقعہ کا نوٹس لے کر میرٹ پر شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔









