لاہور(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ نیب منی لانڈرنگ کیس میں الٹا بھی ہو جائے تب بھی قیامت تک میرے خلاف دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے۔لاہور کی احتساب عدالت میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو عدالت میں پیش کیا گیا اور روسٹرم پر حاضری لگوائی گئی۔شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز طبیعت کی ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔دورانِ سماعت جج جواد الحسن نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ میاں صاحب آپ کچھ کہنا چاہتے ؟ اس پر اپوزیشن لیڈر نے
کہا کہ ابھی تک میرا میڈیکل بورڈ نہیں بن سکا، جج جواد الحسن نے کہا کہ آج آپ کی درخواست پر فیصلہ کردوں گا۔دورانِ سماعت شہباز شریف نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ کیس میں قیامت تک میرے خلاف دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے، یہ الٹے بھی ہوجائیں تو بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکتے۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ میرے خلاف لندن سے خبر چھپوائی گئی اور جس نے خبر چھپوائی ہے اس کا نام نہیں لوں گا، ڈیلی میل نے جب خبر شائع کی تو برطانوی حکومت نے اتوار کوآفس کھول کر تحقیقات کیں، برطانیہ میں اتوار کی چھٹی بہت اہم ہوتی ہے مگر اس دن دفاتر کھولے گئے اور تحقیقات کی گئیں لیکن میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ڈیلی میل میں خبر شائع کرکے پاکستان کو بدنام کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب میں برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر 5 ارب روپے کے مختلف پروگرام شروع کیے، نیب کو کرپشن نہیں ملے گی ہر منصوبے میں پیسے کی بچت ملے /بعد ازاں عدالت نے نیب کے 2 گواہوں کے بیانات پر وکلاء کو جرح کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔قبل ازیں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تو سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ سماعت کے دوران شہباز شریف ایک بار پھر روسٹرم پر آگئے۔ فاضل جج نے شہباز شریف سے سوال کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ جس پر لیگی رہنما نے کہا میڈیکل بورڈ نے میڈیکل رپورٹس نہیں دی، جیل والوں نے بتایا وہ عدالت میں پیش کر دی ہیں۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے
کہا کہ گزشتہ سماعت پر لاہور میں ویسٹ منیجمنٹ کمپنی پر کسی ادارے نے میری باتوں کی تردید نہیں کی، میرے خلاف لندن سے خبر چھپائی گئی، جس نے خبر چھپوائی اس کا نام نہیں لوں گا، پنجاب میں برطانیہ کی حکومت کے ساتھ ملکر 5 ارب روپے کے مختلف پروگرام شروع کیے۔شہباز شریف کا کہنا تھا ڈیلی میل نے جب خبر شائع کی تو برطانیہ کی حکومت نے اتوار کے روز آفس کھول کر تحقیقات کیں، برطانیہ میں اتوار کی چھٹی بہت اہم ہوتی ہے مگر اس دن افسز کھولے اور تحقیقات کی گئیں مگر میرے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی، ڈیلی میل میں خبر شائع کر کے پاکستان کو بدنام کیا گیا، ہر ایک منصوبے میں پیسے کی بچت ملے گی۔









